سیلابِ رحمت — Page 235
خاکسار کے لئے دعاؤں کے سامان : سیلاب رحمت میرے آقا نے خود مجھ کو لکھا خط یہ سرمایا ہے میری زندگی کا ہوا ہے صبر کا پیمانہ لبریز الہی اذن ہو اب واپسی کا نگاہ اُٹھے تو آقا روبرو ہوں یہی دل چاہتا ہے ہر کسی کا جلو میں لاتا ہے سیلاب رحمت ذرا سا عکس آنکھوں میں نمی کا خدایا تیرے بندے اور بے بس! زمانے کو نہ دے موقع ہنسی کا جو چاہی کرب نے صورت بنا لی مرے بس کا نہیں فن شاعری کا بہت خوب صورت مکتوب ہے: 233