سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 233 of 418

سیلابِ رحمت — Page 233

سیلاب رحمت بھی الفضل 11 جنوری میں آپ کی نظم اسیرانِ راہِ مولا پڑھی تو ”جو بدلی غم کی اُٹھی دل پہ تھوڑی برسا دی ساری نظم ہی بڑی پراثر ہے اور فصیح و بلیغ مگر بعض اشعار اور بعض مصرعے تو شوخی تحریر کے فریادی بنے ہوئے ہیں۔میں نے سوچا کہ پہلے اس سے کہ میری آنکھیں خشک ہو جائیں میں آپ کو بتا دوں کہ یہ نظم پڑھ کر اسیرانِ راہِ مولا کے ساتھ ساتھ میرے دل نے آپ کو بھی دعائیں دیں۔جزاکم اللہ احسن الجزاء في الدنيا والاخرة ( مكتوب:1989-1-7) اسیران کے ساتھ دعاؤں میں شمولیت کی بات خاکسار کے لئے بہت بڑا اعزاز تھی۔ایک دفعہ ایک جلی کئی نظم غبار دل پر بھی دا دل گئی۔ایک شعر تھا۔جواب ملا: تمہارے نام پہ ہم لوگ تھوکتے بھی نہیں مگر ہو موقع میسر تو چوکتے بھی نہیں ( مكتوب :87-4-24) آپ کا خط اور نظم غبار دل پڑھ کر خوشی ہوئی ایسی جلی کٹی سنائی ہیں کہ کمال کر دی ہے۔عورت ہی ایسا لکھ سکتی ہے۔واقعی آپ کی نظم عنوان غبار دل کے مطابق ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی شاعری میں نکھار پیدا کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں بہترین کلام پیش کرنے کی توفیق 231