سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 22 of 418

سیلابِ رحمت — Page 22

رحمت آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بن باسیوں کی یاد میں صرف گھر اداس ہیں۔بن باسیوں کے من کی اُداسی مجھ سے زیادہ تو نہیں۔میری غم نصیب آنکھوں میں بسنے والو! در دیجوری سے تڑپنے والو! ادھر بھی یہی حال ہے : آنکھوں سے جو لگی ہے جھڑی، تھم نہیں رہی آ کر ٹھہر گیا ہے جو ساون، اُداس ہے بس یاد دوست اور نہ کر فرشِ دل پر رقص سن! کتنی تیرے پاؤں کی جھانجن اُداس ہے (ص296) محبت کا یہ عالم تھا کہ ربوہ اور ربوہ کے باسیوں کے ذکر پر آپ کی آواز اکثر بھرا جاتی۔گلا رندھ جاتا۔اس درد آشنا دل میں درد کے کچھ دروازے ہومیو پیتھی کی پریکٹس سے بھی کھلے۔ایک برآمدہ ، دیواروں سے لگی الماریوں میں چھوٹی چھوٹی شیشیاں اور میاں طاری۔اور وہ سینکڑوں مجبور، بیمار، بے بس، غریب دکھیارے اپنے اپنے روگ اور رنج والم لے کر آتے اور میاں طاری کے آگے ڈھیر کر دیتے۔ان کو تو وہ میٹھی سفید گولیوں میں دوا کے چند قطرے ڈال کر دے دیتے لیکن اپنا دل درد سے بھر جاتا۔بے چارگی کی ساری تصویریں آپ نے دیکھیں۔درد کے سارے رُخ آپ کی نظروں سے گزرے۔یہ برآمدہ کیا تھا ایک میخانہ غم تھا جو آپ کے دم سے آباد تھا۔یہ سب کچھ اس کتاب ”سیلاب رحمت“ میں ہے۔کتاب کیا ہے۔۔ایک سمندر ہے جو سیرت طاہر اور برکات خلافت کے مختلف پہلوؤں سے موجزن ہے۔محترمہ امتہ الباری صاحبہ نے حضرت خلیفہ اسیح کی خدمت میں بھیجے جانے والے 22