سیلابِ رحمت — Page 219
رحمت اب چارہ گری کوشش ناکام رہے گی اس مرتبہ ہیں درد کے اسباب علیحدہ پیارے آقا کی دلداری کے انداز بھی اپنے ہیں۔خاکسار اگر کچھ کہ رہی ہے تو اس میں بہت دخل پیارے آقا کی ہمت افزائی اور دعاؤں کا ہے، ورنہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ کیا اوقات رکھتی ہوں۔ملے جلے جذبات سے مغلوب اشک اندر انڈیلنے کی کوشش میں تھی کہ آفس میں جانے کا اشارہ ہو گیا۔صرف اتنا بتا سکوں گی کہ وہاں ہزاروں منصوبے دھرے رہ گئے۔مٹھاس ، ٹھنڈک، خوشبو، چاندنی، مامتا نور مجسم سے مل آئی۔دفتر پر ایک نظر ڈالی ، باہر جانے والے دروازے کے ہینڈل کو کچھ دیر تھام کر چھوڑ دیا اور آگئی۔کیا دیکھا، کیا سنا۔۔نظارے نے بھی کام کیا واں نقاب کا عمرائی مستی سے ہر نگہ ترے رُخ پر بکھر گئی اگلے دن چلڈرن کلاس تھی سوچا کچھ دیر اور ضیافت قلب و نظر ہو جائے۔محمود ہال کا مسحور کن ماحول تھا۔عزیزہ شوکت ہادی کی آواز اُداس کوئل کی طرح دل سے ہم آن ملیں گے متوالو بس دیر ہے کل یا پرسوں کی تم دیکھو گے تو آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی دید کے ترسوں کی ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے تو فرط طرب سے دونوں کی آنکھیں ساون برسائیں گی اور پیاس بجھے گی برسوں کی پیارے حضور عین سامنے تشریف فرم نظم میں ڈوبے ہوئے تھے اور میری آنکھیں ہی نہیں زمین و آسمان ساون برسا رہا تھا۔شوکت کی آواز میں حضور کے کلام کا ایک ایک بول عین 217