سیلابِ رحمت — Page 220
دل پر ضرب لگا رہا تھا۔اگلے دن ایئر پورٹ پر قدوس اور رشید صاحب ،مبشرہ اور شکور صاحب مدثر اور عباسی صاحب صبور اور عمر صاحب مع ثمر اور ڈیڑھ ماہ کے نصر کے الوداع کہنے آئے تھے۔صبور اور عمر کے پاس زبان نہیں۔اُن کی آنکھوں نے اور باقی سب نے پیار بھرے انداز میں دلی دعاؤں کے ساتھ الوداع کہا۔جہاز کے پہیوں نے ہیتھرو سے نا نہ توڑا اور فضاؤں میں بلند ہو گیا۔دور دور تک اندھیرا تھا کہیں کہیں بادلوں کی پھٹی ہوئی چادر سے روشن شہروں کا جو بن جھانک رہا تھا۔مشرق کی طرف سفر نے جلد ہی صبح نو کی نوید دی۔آسمان پر ایسے اُجالے پھوٹتے۔میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔آفتاب تازہ کا طلوع ایسا شاندار ہوتا ہے خبر ہی نہیں تھی۔پہلے آسمان پر نارنجی رنگ پھیلنا شروع ہوا۔پھر انہیں تیز روشنیوں میں سے سفید کرنیں پھوٹنے لگیں۔چندھیا دینے والا نور اپنا دامن پھیلا تا چلا گیا۔کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا وہ آنسو جو کئی دن پہلے سے صبور کی آنکھوں سے چھلک رہے تھے، مجھے ڈبوتے چلے گئے: لمحات وصل جن یہ ازل کا گمان تھا چٹکی میں اُڑ گئے وہ طیور سرور شب میں گئی تھی تو ڈیفوڈلز کھلے ہوئے تھے۔پھر ٹیولپ نے رنگ بکھیرے اور بے لباس درختوں نے پھول اوڑھ لئے۔خدا حافظ پیارے آقا کے پیارے پر دیں۔۔218