سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 218 of 418

سیلابِ رحمت — Page 218

بتایا کہ اس شہر کو خوبصورت ترین شہر کا انعام ملا تھا۔اتوار دس مئی کو واپسی تھی۔آٹھ تاریخ کے جمعہ میں حضور پر نور کی آواز کے ساتھ دل اور آنکھیں بھر جاتی رہیں۔سجدے میں سر رکھا تو اُٹھانے کو جی نہ چاہا۔خوب دعائیں کیں۔اس نادر و نایاب وجود کیلئے جو خدا تعالیٰ کی خاص رحمت کا نشان ہے جس کے اوصاف سے ایسی کھڑکیاں کھلتی ہیں جہاں سے ہم اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کتنا اعلیٰ و برتر ہے۔پھر اُن کیلئے بھی دل سے دعا نکلی جن کے تعاون سے یہ سفر میسر آیا تھا۔جمعے کے دن شام کی ملاقات تھی۔انتظار کے کمرے میں ہی حالت قابو میں نہ تھی۔یہاں مجھے حضور ایدہ الودود کا ایک مکتوب ملا۔حضور کے خطوط میرے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں بیان نہیں کر سکتی۔حضور کے مقام ومرتبہ کی بلندی کا اندازہ بھی نہیں کر سکتی۔نادانی جرات آموز ہوتی ہے۔وہ سب کچھ لکھ دیتی ہوں جولکھنا چاہتی ہوں۔پھر خوفزدہ رہتی ہوں۔استغفار کرتی ہوں۔خط آتا ہے تو ڈرتے ڈرتے کھولتی ہوں حضور بیحد شفیق ہیں پھر بھی ڈر لگتا ہے۔مگر خط کھول کر سارے غم بھول جاتی ہوں۔کبھی کبھی نظموں پر داد اور دُعا بھی ملتی ہے۔اس خط میں بھی الفضل انٹرنیشنل میں چھپنے والی ایک نظم کو خوبصورتی سے سراہا گیا تھا۔خاص طور پر کچھ اشعار پر زیادہ پسندیدگی کا اظہار تھا: آتا ہے نظر تاروں میں مہتاب ہر پہلو علیحده ہے وہ در نایاب عليحده حرفوں کے بدن ٹوٹے ہیں اُس شب کی دکھن سے جو یاد میں گزری شب مهتاب علیحدہ ترتیب سے رکھتی نہیں یادیں کبھی لیکن باندھا ہے ترے نام کا اک علیحده باب 216