سیلابِ رحمت — Page 17
سیلاب رحمت حرفوں کے بدن ٹوٹے ہیں اس شب کی دُکھن سے جو یاد میں گزری شب مہتاب علیحدہ اب چارہ گری کوشش ناکام رہے گی اس مرتبہ ہیں درد کے اسباب علیحدہ (ص262) امۃ الباری ناصر صاحبہ ایسی باکمال شاعرہ ہیں کہ جن کی نثر ان کی نظم سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور شاعری میں اگر ایک ایک شعر پر داد پائی اور امام وقت سے تعریف و توصیف کے تمغے پائے تو نثر میں بھی ایک ایک فقرے پر خوب داد پائی۔ایک خط کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع ” تحریر فرماتے ہیں: وو " آپ نے صحن میں لگے پودوں اور درختوں کے ذکر کے ساتھ اپنے گھر کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں تو کمال ہی کر دیا ہے۔آپ کی نثر بعض دفعہ آپ کے شعروں پر غالب آجاتی ہے۔نثر میں خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ اور عبور بخشا ہے کہ آپ فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتی چلی جاتی ہیں۔چنانچہ آپ کے صحن اور باغ کا نقشہ پڑھ کر تو یوں لگتا ہے جیسے میں نے آپ کا گھر صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کے صحن میں بیٹھ کر کچھ وقت گزار آیا ہوں۔اللہ آپ کے قلم میں مزید روانی اور جاذبیت پیدا فرمائے۔اردو کلاس کے حوالے سے آپ کا تبصرہ پڑھ کر بہت محظوظ ہوا ہوں کہ زبان رکھتی تو کتنی نازاں ہوتی۔بہت عمدہ فقرہ لکھا ہے اس سے تو 17