سیلابِ رحمت — Page 160
سیلاب رحمت نہ ہیں اب حضرت صادق نہ غلام غوث آہ کیا سے کیا ہوگیا آشفتہ و حیراں ہوں میں آرزو ہے کہ انہیں قرب الہی مل جائے ان پر اس فضل، اس انعام کا خواہاں ہوں میں سب مندرجہ بالا امور کی تفصیل آپ کو اس خوب صورت کتاب میں ملے گی۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ نافع الناس الفضل ۲۴ جولائی ۲۰۱۴) بنائے۔اٹھانوے ویں کتاب زندہ درخت ہے۔یہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ اس کتاب کا موضوع ایک صحابی مسیح الزماں حضرت میاں فضل محمد صاحب اور ایک درویش قادیان مکرم میاں عبدالرحیم صاحب دیانت کے حالات ہیں اور یہ قادیان سے ہی شائع ہوئی۔۴۰۰ صفحات پر مشتمل با تصویر کتاب ۲۰۱۲ء میں منظر عام پر آئی۔اس کتاب کی خصوصی اہمیت یہ ہے کہ ایک درویش نے اپنی یادداشتیں لکھی تھیں جو ابتدائے درویشی کے چشم دید حالات کی تاریخی دستاویز ہے، جسے درویش کی بیٹی نے قدرے مرتب کر کے پیش کیا ہے۔گویا باپ بیٹی نے مل کر لکھا ہے۔اس کتاب سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جو اس کے در کا فقیر ہو جاتا ہے اس کی آل اولاد کی اللہ تعالیٰ خود کفالت فرماتا ہے۔مکرم مبارک احمد نذیر صاحب مشنری انچارج جماعت احمدیہ کینیڈا نے خاکسار کے بھائی کے نام مکتوب میں اظہار خوشنودی کیا جو ہمارے لئے باعث اعزاز ہے: "This book has been my companion for the past two weeks۔I have read and reread most of it۔There are incidents in this book that my wife and I read 160