سیلابِ رحمت — Page 153
رحمت صفحات ، آپ بیتی ۲۲۰ صفحات ، کر نہ کر ۷۸ صفحات پر مشتمل شائع کر چکے تھے۔اس کتاب کے ساتھ یہ سیٹ مکمل ہوا۔حضرت میر صاحب کو ایسی مسجد کی تاریخ مرتب کرنے کی توفیق ملی جو آئندہ جماعت احمدیہ میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کرنے والی تھی۔اس مسجد نے چار خلفاء کرام کوسر بسجود ہوتے دیکھا۔حضرت میر صاحب نے مسجد کے آغاز سے افتتاح تک سب شواہد جمع کر دئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ۱۹۲۴ ء میں یورپ کے دورے پر تشریف لے گئے تھے۔اسی دورے میں آپ نے ۱۹ / اکتوبر ۱۹۲۴ کو مسجد فضل کا سنگ بنیا درکھا۔آپ کے دورے کی رپورٹیں قادیان آتیں ، حضرت میر صاحب نے ان رپورٹوں کو ترتیب دے کر بہت خوب صورتی اور لگن سے آغاز سے افتتاح تک کی تاریخ مرتب فرمائی جو ہر لحاظ سے ایک قیمتی دستاویز ہے۔اس وقت کے اخباری تراشوں سے واضح ہوتا ہے کہ مسجد کے افتتاح کو غیر معمولی اہمیت ملی۔الفضل ربوہ نے اس خدمت کو سراہا : زیر تبصرہ کتاب کے آغاز میں حضرت مسیح موعود اور جماعت احمدیہ کا مختصر تعارف بیرونی ممالک میں دعوت الی اللہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا مبارک دور جیسے مضامین شامل کئے گئے ہیں۔ان وقیع مضامین کے بعد تحریک مسجد فضل لندن، مذہبی کا نفرنس لندن اور احمد یہ سفارت سلسلہ کی مساعی کے انگلستان میں ظاہری شمرات مسجد فضل لندن کے متعلق پیش گوئیاں ، تقریب سنگ بنیاد کا احوال، پریس میں کوریج، افتتاح کا پروگرم ، افتتاحی پروگرام میں شریک ہونے والے عمائدین کے تاثرات و پیغامات جیسے اہم عناوین کے تحت تفصیلات درج ہیں اور 153