سیلابِ رحمت — Page 66
سیلاب رحمت ریڈنگ کروالیتی۔سب سے بڑھ کر مسافروں سے کتب اٹھوانے کا کام ہوتا۔مثلاً ربوہ ، لاہور یاراولپنڈی جانے والی کسی خاتون کا پتہ لگتا تو ان سے کہتے کہ وہاں سے کتابوں کا آرڈر آیا ہوا ہے، ایک بنڈل لے جائیں بڑی مہربانی ہوگی۔بالعموم یہ بات خوشی سے مان لی جاتی۔دراصل یہ کام ہم میں سے کسی کی ذات کے لئے نہیں ہوتے بلکہ جماعت کی خدمت کا جذبہ ہے جو یہ تعاون علی البر کرواتا ہے۔فجز اھم اللہ تعالی۔دُعاؤں کے سہارے ہماری گاڑی آگے بڑھنے لگی۔بزرگوں کی دعائیں حوصلہ دیتیں۔مکرم شیخ مبارک احمد صاحب ( مربی و انچارج احمد یہ مشن امریکہ ) کا دل خوش کن مکتوب ملا : آپ کی طرف سے کتب کا تحفہ موصول ہوا۔پہلی نظر میں ان کے سرورق کو دیکھتے ہی ایک خوشی کی لہر دل میں پیدا ہوئی۔ظاہری کشش بھی ضروری ہوتی ہے اور سب سے پہلے تو ظاہری حسن و کشش ہی دلکشی کا باعث بنتی ہے۔لیکن جب ان کا اندرونی حسن دیکھا تو ماشاء اللہ ظاہری و باطنی حسن دل آویز سے یہ کتب میری للچائی ہوئی نظروں کا شکار بن گئیں۔مقدس ورثہ۔چشمہ زم زم کو نیل غنچہ گل ایسی دیدہ زیب اور تحریر ایسی پر اثر کہ پڑھتے پڑھتے آنسو بھی شامل ہو گئے اور دل کی گہرائیوں سے ایسی پاکیزہ اور موثر لکھنے والی بہنوں کے لئے دعائے خیر نکلی بے حد ایمان افروز اور مفید۔اللہ تعالی آپ سب کو جزائے خیر دے۔صد سالہ تاریخ احمدیت زیادہ فکر مندی اور توجہ سے شروع سے آخر تک دو تین بیٹھکوں میں پڑھ گیا۔لاریب اچھی کوشش ہے۔بے شمار کتب کا پڑھنا مشکل۔آجکل مصروف دنیا میں تعلیم کتب کا مطالعہ کوئی آسان کام 66