سیلابِ رحمت — Page 387
سیلاب رحمت ہی نہیں بلکہ پاکستانیوں کیلئے بھی تھی۔اس لئے میں نے اس نظم میں بعض جگہ عربی اور فارسی الفاظ استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا تا کہ ہم اپنا حق بھی قائم رکھیں۔جہاں تک انوار کے لفظ کا تعلق ہے، نور کی یہ جمع شاید زیادہ اجنبی رہی ہو۔لیکن اس کو روشنیوں کی بجائے نوروں میں تبدیل کر دیا جائے تو اور کسی تبدیلی کی ضرورت نہیں کیونکہ لفظ نور جو پہلے آیا ہوا ہے وہ تو پھر بھی موجود رہے گا۔جس کو نور کی سمجھ آجائے گی وہ نوروں کو بھی سمجھ جائے گا۔پس یہ شعر یوں بن جائے گا: سدا سہاگن رہے یہ بستی جس میں پیدا ہوئی وہ ہستی جس سے نور کے سوتے پھوٹے جو نوروں کا اک ساگر تھا“ اس نظم کا آخری شعر ہے: مکتوب 15۔5۔93 صفحہ 5-4) ہیں سب نام خدا کے سندر، واہے گرو، اللہ اکبر سب فانی، اک وہی ہے باقی ، آج بھی ہے جو کل ایشر تھا خاکسار کی پہنچ محض لغت تھی۔لغت دیکھ کر تجویز کر دیا کہ ایشر کی جگہ ایشور ہو تو وزن نہیں ٹوٹتا۔حضور پر نور کی لفظوں پر تحقیقات کے دائروں کا اندازہ لگائیے۔آپ نے تحریر فرمایا: اول تو یہ درست نہیں کہ ایشور سے وزن نہیں ٹوٹتا۔دوسرے دو جہاں تک ایشر کا تعلق ہے بات یہ ہے کہ قادیان میں ہندی دان احمدی سکالرز سے میں نے چیک کروالیا تھا اور ان سب نے اس پر صاد کیا۔لغوی لحاظ سے اس کا اصل ایش ہے۔جسے ایس بھی پڑھا جاتا 383