سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 362 of 418

سیلابِ رحمت — Page 362

ب رحمت میرے والی چیز دو۔میرے والی کہنے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ مجھے محض یہ چیز نہیں چاہئے بلکہ وہی چیز چاہئے جو میری تھی۔اس طرز بیان میں اظہار عشق بھی محض میرے مصطفیٰ ، کہنے کے مقابل پر بہت زیادہ زور مارتا ہے۔پس رویا میں ہی میں یہ نہیں سمجھ رہا کہ اس میں کوئی نقص ہے بلکہ اس ظاہری نقص میں مجھے فصاحت و بلاغت کی جولانی دکھائی دی اور مضمون میں مقابلہ بہت زیادہ گہرائی نظر آنے لگی۔علاوہ ازیں چونکہ یہ طرز بیان محض ریڑھی والوں کی نہیں ہوا کرتی جو ایک عامیانہ طرز ہے بلکہ بچوں کی سی ادا بھی ہوا کرتی ہے۔جس میں معصومانہ پیار اور اپنائیت جوش مارتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں نے نہ صرف خواب میں ظاہر کردہ الفاظ کے ساتھ وفا کی بلکہ اسے ہر دوسری طرز بیان سے بہتر بھی پایا۔ہاں ”اے میرے والے مجتبی اے میرے مصطفیٰ کے بعد پور اسجتا نہیں۔ویسے بھی مصطفی، مجتبی ، مرتضیٰ وغیرہ خدا کی طرف منسوب ہوتے ہیں اس کی جگہ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ کر دوں۔اے میرے والے مصطفی "اے میرے راہنما یا پھر ”اے میرے والے مصطفیٰ " میں ہو چکا تر “ بھی کر سکتے ہیں۔لیکن اس شعر کے دوسرے مصرع میں جو الفاظ ہیں رویا میں قریباً یہی الفاظ تھے جیسا کہ مجھے یاد پڑتا ہے مگر سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتا۔اس میں لفظ ” تیری شامل ہوتا تو لفظ اُمت کی وضاحت تو ضرور ہو جاتی کہ کس کی امت مراد ہے۔مگر ایسی امت کو جو رسول اللہ کی طرف 358