سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 304 of 418

سیلابِ رحمت — Page 304

پھر آپ فرماتے ہیں: ہر طرف آپ کی یادوں پہ لگا کر پہرے جی کڑا کر کے میں بیٹھا تھا کہ مت یاد آئے ناگہاں اور کسی جی ایسا دکھا بات میں بہت رویا مجھے آپ بہت یاد آئے اس غم والم کے موسم میں جو تسلیاں دیتے وہ بھی اتنی دکھ بھری کہ دونوں طرف کی تڑپ میں اضافہ ہو جاتا۔ہم آن ملیں گے متوالو۔بس کل پرسوں کی بات ہے۔دید کے ترسوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ہم آمنے سامنے بیٹھیں گے تو فرط طرب سے آنکھیں ساون برسائیں گی اور برسوں کی پیاس بجھے گی۔تم دور دور کے دیسوں سے قافلہ قافلہ آؤ گے، تو خوشی سے میرے دل کے کھیتوں میں سرسوں کی فصلیں پھولیں گی۔عشق و وفا کے کھیت رضا کے خوشوں سے لد جائیں گے۔ہجر کا موسم بدل جائے گا پیار کی رُت آئے گی۔میرے بھولے بھالے حبیب مجھے لکھ لکھ کر کیا سمجھاتے ہیں۔کیا ایک انہی کو دکھ دیتی ہے، جدائی لمبے عرصوں کی۔اب بہت عرصہ نہیں لگے گا۔ظالموں کے دعوے جھوٹے ثابت ہوں گے۔عرصوں کی کلفت دور ہوگی برسوں کی پیاس بجھے گی، ہم ملن کے گیت گائیں گے۔عجیب اعجاز خداوندی ہے کہ مولا کریم نے ہر دعا بہتر رنگ میں سنی۔وطن تو آپ کے قدموں سے محروم رہا اور یہ ملن کے موسم سرسوں پھولنے کے دنوں میں قادیان میں آئے اور پوری دنیا سے احمدیوں نے مل کر ملن کے گیت گائے۔الحمد للہ۔(روز نامہ الفضل 30 جولائی 2003ء) 302