سیلابِ رحمت — Page 238
واجعل لا من لذلك سلطا نصيرا انا فتحنا لک فتحا مينا الله بندر ق المالية ال20 نحْمَدُه وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الكَرِيمِ امام جماعت محمود AHMADIYYA MUSUM 30۔4۔1990 چھ سال پہلے میں 29 اور 30 اپریل کی درمیانی رات کو کراچی سے ادا نہ ہو اتھا۔اس وقت تو آپ کو سوتا چھوڑ کر آیار چھوڑ عزیزہ امتہ الباری ناصر السلام علیکم ورحمته الله وبركاته آپکا۔و 150 کا خط ملا جن میں یہ پڑھ تھا۔یہ جرگہ تھی کہ بہت خوشی ہوئی کہ آپ اپنا منظوم پہیہ تشکر کہ او تا لیور طبع کروانے کی تیاری کر رہی ہیں۔نمی کا عکس عنوان کر بارہا ہوں۔مجھے الله جلو بھی آپ نے خوب چنا ہے۔اس کے بعد آنے والے مجموعہ کلام کا عنوان تعجب نہیں کہ سیلاب رحمت اب آپ سب کو ہنشا ہوا دکھائے تو اپنے آنسو ہمیشہ کے لئے جذبات ہو۔تشکر کی نقہ کردوں۔ماشاء الله آپکے کلام میں رفتہ رفتہ ایک کئی جلد پیدا ہوتی جارہی ہے۔شاد کے طور پر کہیں کہیں خیال پیدا ہوتا تھا کہ اصلاح کی گنجائش موجود ہے لیکن کوئی نظم یا غزل بھی بے اثر نہیں دیکھی۔بعض اشعار تو یوں اٹھتے اور بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ نگاہیوں کے قدم روک لیتے ہیں۔زبان حال سے یہ کہتے ہوئے کہ ہمیں سرسری نظر سے دیکھ کر اپنی قدر شناسی کو پامال کئے بغیر آگے 236