سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 213 of 418

سیلابِ رحمت — Page 213

رحمت سے پہچان گئیں۔ان دنوں درثمین درست تلفظ اور مشکل الفاظ کے معانی والا پروگرام ایم ٹی اے پر قسط وار آ رہا تھا۔پھر حضور ایدہ اللہ کا خطبہ اور نماز کی امامت کا لطف ملا۔عید کے اجتماع پر شروع سے آخر تک نظر ڈال کر میں نے دیکھا کہ زیادہ تر پاک و ہند کے چہرے تھے۔اس خطہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے موعود کی تخت گاہ کیلئے چنا۔سعید روحوں کو کشاں کشاں اُن کے ارد گرد جمع کیا۔پھر انہیں ہر قسم کی برکتوں سے مالا مال کیا۔پہلے ایسے اجتماعات پر سادگی حاوی ہوتی تھی۔اب تمول نمایاں تھا۔عید کے بعد دید ہوئی۔گویا دوہری عید ہوئی۔حضور انور ذرا دیر کیلئے عورتوں کی مارکی میں تشریف لائے۔اُس وقت سب گھر والے اور کراچی والے بہت یاد آئے۔اللہ کرے ایسی عید میں اہل پاکستان کے نصیب میں بھی ہوں۔ہر دعا کے موقع پر ایسی دعاؤں کا موقع ملا۔عید کے بعد اسلام آباد کے طول و عرض میں پھیل کر اپنی اپنی گاڑیوں کی اوٹ میں دائروں کی صورت میں بیٹھ کر گھروں سے تیار کھانا گرم کر کے کھایا۔کچھ لوگ بار بی کیو بھی کر رہے تھے۔یہ ایک دلفریب منظر تھا۔میری بھتیجیاں مبشرہ شکور اور مدثرہ عباسی بھی بڑی مہارت سے ضرورت کی ہر چیز اور وافر کھا نالا ئی ہوئی تھیں۔آزاد بلاخوف وخطر خوشیوں سے بھر پور ماحول میں پاکیزگی کے ساتھ حقیقی عید ہوئی۔ان کے بچے چلڈرن کلاس کے تربیت یافتہ ہیں۔اس لئے آتے جاتے گاڑی میں ان سے نظمیں سنی گئیں۔چلتی گاڑی میں باہر کے مناظر کے ساتھ پیارے بچوں کی پیاری آوازوں میں پیاری نظمیں بہت بھلی لگتیں۔اپنے آقا سے براہ راست فیض پانے کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کرنے کے شوق میں چلڈرن کلاسز میں بھی جاتی رہی۔وقت سے کچھ پہلے محمود ہال میں پہنچ جانے کی وجہ سے پروگرام کی تیاری کے مراحل بھی دیکھے۔مائیں اور منتظم خواتین بچوں کی نظمیں تقریریں تیار 211