سیلابِ رحمت

by Other Authors

Page 214 of 418

سیلابِ رحمت — Page 214

کرانے میں دوڑ بھاگ کر رہی ہوتیں۔یہ پروگرام جہاں بچوں کیلئے دینی درسگاہ ہے بڑوں کیلئے بھی کم فائدہ مند نہیں۔بہت مطالعہ سوچ بچار اور محنت سے تیار ہوتا ہے۔پھر آپس میں ایک صحتمند مقابلہ بھی جاری رہتا ہے۔مستقل حصہ لینے والے بچوں کی ماؤں سے تعارف ہوا۔سب ہی بلا امتیاز اپنے اپنے بچوں پر بہت محنت کر رہی ہیں۔اپنی خوش نصیبی پر نازاں بھی ہیں۔بچوں کی تربیت خلیفہ وقت کے شفیق ہاتھوں میں ہورہی ہے۔بندہ خدا سے اور کیا مانگے۔یہ بچے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے عزیزوں کیلئے اور ساری جماعت کے لئے ابدالاباد تک رہنے والی نعمتیں حاصل کر رہے ہیں۔حضور انور نے نظمیں پڑھنے کے فن کو بھی صیقل کیا ہے۔آواز کے زیر و بم سے زیادہ دل ڈال کر پڑھنا سکھایا ہے۔اس مدرسے کے فارغ التحصیل بچے تصنع اور نمائش کو بھول کر دل سے دلوں میں اُترنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں گے۔حضور انور کی محنت مضبوط اور دیر پا رنگ لائے گی۔چلڈرن کلاس کے بعض مناظر ہر وقت میرے ساتھ رہتے ہیں۔محمود ہال میں حضور پر نور کی موجودگی میں اس نظم کے دلنشین بول دل میں گہرے اترتے چلے گئے۔مرے درد کی جو دوا کرے، کوئی ایسا شخص ہوا کرے وہ جو بے پناہ اُداس ہو، مگر ہجر کا نہ گلہ کرے مری چاہتیں مری قربتیں، جسے یاد آئیں قدم قدم تو وہ سب سے چھپ کے لباس شب میں ، لپٹ کے آہ و بکا کرے 129اپریل کا دن اس لحاظ سے یاد گار تھا کہ صدر صاحبہ یوکے کے زیر اہتمام حضور پرنور سے اجازت لیکر مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔محمود ہال آخر تک بھرا ہوا تھا۔سٹیج پر موم بتیوں کی قطار خصوصی انتظام کو چمکا رہی تھی۔فرشی نشست پرکشش منظر پیش کر رہی تھی۔محترمہ طیبہ 212