سفر آخرت — Page 22
22 تکفین کے بعد میت کا منہ دیکھنے کی اجازت ہے۔( ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجہ وفی النظر الی المیت از اداج فی الکفانه صفحه ۱۰۶) ۱۷۔تجہیز وتکفین میں سادگی ( فقه احمد یہ عبادات ) حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت عائشہ صدیقہ سے دریافت فرمایا کہ حضرت محمد ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا عرض کیا تین کپڑوں کا ارشاد فرمایا میرے کفن میں بھی تین کپڑے ہوں دو یہ چادریں جو میرے بدن پر ہیں دھولی جائیں اور ایک کپڑ انیا لیا جائے حضرت عائشہ نے دردمندانہ عرض کیا ابا جان ہم اتنے بھی غریب نہیں ہیں کہ نیا کفن بھی نہ خرید سکیں۔ارشاد فرمایا نئے کپڑوں کی مُردوں سے زیادہ زندوں کو ضرورت ہے میرے لئے یہی پھٹا پرانا ٹھیک ہے۔حضرت علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہ نے قیمتی کپڑا بطور کفن دینے سے منع فرمایا بیان کیا کہ میں نے آنحضرت مﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ قیمتی کپڑوں کا کفن مت دو کیونکہ وہ جلد ہی گل سٹر کر ختم ہو جائے گا یعنی قیمتی کپڑا مردے کے کسی کام نہیں آتا اس واسطے یہ بے ضرورت ہے یا یہ قیمتی کفن چوری ہو جانے کا خدشہ ہوتا ہے اس طرح نعش (ابوداؤد کتاب الجنائز) کی بھی بے حرمتی ہوتی ہے۔تکفین کے بعد جنازہ کو کندھوں پر اٹھا کر جنازہ گاہ لے جایا جائے۔حضرت امام مالک بیان کرتے ہیں کہ مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات سوموار کے روز ہوئی اور دفن بروز منگل ہوئے اور آپ کا جنازہ لوگوں نے الگ الگ گروہوں کی شکل میں پڑھا کسی نے امامت نہیں کرائی۔(موطا امام مالک)