سفر آخرت — Page 63
63 آدمی قبروں پر بیٹھ کر اُن سے فیض لے انسان کو چاہئے امن کا راستہ اختیار کرے اولیاء اللہ ایک طرح زندہ ہیں مگر زندگی کے یہ معنی نہیں کہ دیوار کے پیچھے دیکھ سکتے ہیں مرنے کے بعد توسیع مدارج ہو جاتی ہے مگر کوئی انسان خدا انہیں بن جا تا فرمایا ہم نے خدا کے قول "نحن اقرب اليه من حبل الورید یعنی ہم انسان کے رگِ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں کو آزمایا۔ہم بات کرتے ہیں وہ جواب دیتا ہے ہماری جماعت کے کئی آدمی بھی اس میں شامل ہیں خدا پر غیر ممکن نہیں کہ وہ اُن پر الہام کا دروازہ کھول دے انسان کو چاہنے کسی انسان پر توقع نہ رکھے سب بھروسہ اللہ پر رکھنا چاہئے۔(صفحه ۲۲۳-۲۲۴) الهام "أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبُدَهُ “ کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں باالفاظ دیگر خداداری همه چیز داری چه غم داری -۷۵۔سوئم چالیسویں ختم قرآن آیت کریمہ اور باداموں کے ختم حضرت مرزا طاہر احمد خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس موضوع پر فرماتے ہیں ہم وہی ختم مانتے ہیں جو ختم رسول کریم ﷺ سے ثابت ہو اور نہ اس کے سوا کوئی عقیدہ ہے۔وجہ یہ ہے کہ اس میں اصولی اختلاف ہے بعض دفعہ نیکی کے نام پر غلط رسمیں رائج ہو جاتی ہیں اور وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا کرتی ہیں امر واقعہ یہ ہے اور اس عقیدے پر ہم بڑی شرح صدر سے قائم ہیں اس میں ہم کبھی تبدیلی نہیں کر سکتے کہ آنحضرت ﷺ پر دین کامل ہو گیا اور آپ کا اسوہ حسنہ ہی ہمیشہ کے لئے تقلید کے لائق ہے یا ان صحابہ کا اسوہ حسنہ جنہوں نے آپ سے تربیت پائی ان کے سوا تو قرآن میں اور کسی کا اسوہ ماننے کا کہیں حکم نہیں ہے نکال کر دکھا دیجئے حضرت اقدس محمد مصطفی سی ہے آخری نمونہ ہیں جن کی پیروی لازمی قرار دی گئی ہے کسی اور پیروی تب ہم کریں گے اگر وہ حضور کی پیروی کرے گا ورنہ نہیں کریں گے تو یہ