سفر آخرت — Page 17
17 پڑ گئے آپ کے ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئے بہر حال آخری وقت معلوم ہوتا تھا مرز اسلطان احمد مرحوم موجود تھے اور زار زار رو ر ہے تھے حضور نے آنکھیں کھولیں اور فرمایا موت کیا ہے؟ یہ ایک مرکب ہے جو دوست کو دوست کے پاس پہنچا دیتا ہے اگر موت نہ ہوتی سالکوں کے تمام سلوک نا تمام رہ جاتے۔اصحاب احمد جلد چهارم روایت ظفر صفحه ۱۶۳) ۱۰۔موت دونوں جہانوں کو جدا کرنے والا پردہ ہے حضرت مصلح موعود ارشاد فرماتے ہیں ہم دیکھتے ہیں مرنے والے مر جاتے ہیں ان کے لواحقین اور رشتہ دار ساری عمر روتے رہتے ہیں ہمارا عزیز ہم سے جد اہو گیا اور وہ اس پر اس قدر غم اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ موت ایک ہوا ہے جو ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔لیکن جب کسی شخص کو اس بات پر یقین ہو جائے کہ زندگی صرف یہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی انسان کو زندگی حاصل ہوتی ہے تو وہ موت سے گھبراتا نہیں بلکہ سمجھتا ہے یہ ایک پر دہ ہے جو اس عالم سے جدا کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لٹکا یا گیا ہے مجھے ایسا نظارہ اُم طاہر کی وفات کے دو چار دن بعد دکھایا گیا میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک اسٹیشن پر کھڑا ہوں جس کے دو حصے ہیں مگر اس کی دوسری طرف نظر نہیں آتی درمیان میں ایک لکڑی کا پردہ ہے جو دونوں کو جد ا کر رہا ہے مگر وہ پردہ اس طرح کا ہے کہ کئی لکڑی کے ستون ترچھے گاڑے ہوئے نظر آتے ہیں نیچے سے تو دیوار بالکل بند ہے مگر او پر جا کر جولکڑیاں یا بالے ہیں ان میں ایک شگاف ہے اور اس شگاف میں سے اُم طاہر مجھے جھانک رہی ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھیں نیم باز ہیں اور وہ دوسری طرف کھڑی ہو کر اس شگاف میں سے اسٹیشن کے اس حصے کی طرف دیکھ رہی ہیں جس پر ہم کھڑے ہیں۔میں نے سمجھا کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد کا ایک نظارہ دکھایا