حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب

by Other Authors

Page 2 of 17

حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 2

حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب جاہلیت کے زمانہ میں حضرت صفیہ کا نکاح حارث بن حرب کے ساتھ ہوا تھا ، جن کے انتقال کے بعد آپ عوام بن خویلد کے نکاح میں آئیں جو اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبری کے بھائی تھے۔آپ کے تین بیٹے تھے ایک حضرت زبیر جنہیں دربار بنوت سے الله حواری رسول عمل کا خطاب ملا اور ان کا شمار اُن دس صحابہ میں کیا جاتا ہے جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دی گئی۔دوسرے بیٹے کا نام سائب تھا اور تیسرے بیٹے عبدالکعبہ تھے۔حضرت سائب کو بدر، خندق اور یمامہ کی جنگوں میں شرکت کی توفیق ملی۔(4) حضرت زبیر ابھی چھوٹے ہی تھے کہ آپ کے والد وفات پا گئے۔حضرت صفیہ اس وقت جو ان ہی تھیں لیکن خاوند کی وفات کے بعد انہوں نے ساری زندگی بیوگی جوال میں ہی کاٹ دی۔(5) خاوند کی وفات کے بعد حضرت صفیہ کے سامنے آپ کے بیٹے کی تربیت کا مسئلہ تھا۔آپ نے حضرت زبیر کی تربیت بہت عمدہ طریق سے کی۔آپ کی خواہش تھی کہ آپ کا بیٹا بڑا ہو کر ایک نڈر اور بہادر سپاہی بنے۔اس لیے اگر اس معاملہ میں آپ کو سختی سے بھی کام لینا پڑتا تو لیتیں اور وقتا فوقتا حضرت زبیر سے سخت محنت اور مشقت کا کام لیتیں اور ڈانٹ ڈپٹ بھی کرنا پڑتی تو کرتیں۔