حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 3
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 3 ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت زبیر کی پٹائی ہو رہی تھی کہ آپ کے چچا نوفل بن خویلد وہاں سے گزرے۔بچے کو پٹتے دیکھ کر انہوں نے حضرت صفیہ کو منع کیا تو حضرت صفیہ نے کہا کہ مجھے زبیر سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔میں اس پر اس لیے سختی کرتی ہوں کہ وہ عقل مند ہو۔غرض ماں کی تربیت کا یہ اثر ہوا کہ حضرت زبیر بڑے ہو کر ایک سچے مسلمان ، بہادر سپاہی اور نڈر سالار بنے۔اگر چہ حضرت زبیر خود بھی نیک اور سعید فطرت لے کر پیدا ہوئے لیکن ماں کی تربیت نے ان خوبیوں کو اور بھی چمکا دیا اور ان کے دل میں اسلام اور رسول کریم اے کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی۔صل الله رحمت عالم ﷺ سے حضرت زبیر کی محبت کا یہ عالم تھا کہ بعثت کے ابتدائی دنوں میں جب یہ افواہ سنی کہ حضور عے کو مشرکین نے علوم گرفتار کر لیا ہے یا شہید کر دیا ہے تو ایسے بے قرار ہوئے کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ تلوار لے کر بجلی کی سی تیزی سے رسول کریم علیہ کے صلى اللهم پاس پہنچے۔حضور ﷺ کو وہاں بخیریت پایا تو جان میں جان آئی۔آنحضور ﷺ نے ان کی نقلی تلوار کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : و, رض ز بیر یہ کیا ہے؟‘ حضرت زبیر نے عرض کیا صلى الله یا رسول اللہ اے میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ! میں