حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 4
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 4 نے سنا تھا کہ آپ ﷺ کو دشمنوں نے گرفتار کر لیا ہے یا شاید آپ نے شہید کر دئیے گئے ہیں۔حضور علیہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:- اگر واقعی ایسا ہو جاتا تو تم کیا کرتے ؟“ حضرت زبیر نے بے ساختہ عرض کیا: وو صلى الله یا رسول اللہ ہے خدا کی قسم میں اہل مکہ سے لڑ مرتا (6) یہی ہے وہ تربیت جو حضرت صفیہ اپنے لخت جگر کی کرنا چاہتی تھیں۔اور اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ اگر چہ قبول اسلام کے نتیجہ میں حضرت زہیر پر بے پناہ مظالم کئے گئے کہ کسی طرح وہ دین حق کو چھوڑ کر اپنے پرانے مذہب کی طرف لوٹ آئیں لیکن آپ کا ایک ہی جواب تھا کہ بخدا میں کسی بھی قیمت پر گھر کی طرف نہیں لوٹوں گا۔جب کفار کے مظالم مسلمانوں پر حد سے بڑھ گئے تو رحمت للعالمین ﷺ کے ارشاد پر پندرہ لوگوں کا ایک قافلہ نبوت کے پانچویں سال حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔حضرت صفیہ کو اپنے بیٹے کی جدائی کا بہت دکھ تھا لیکن حضور میں نے کے حکم اور اپنے بیٹے کی سلامتی کے خیال سے بڑے صبر اور حو صلے کے ساتھ اپنے لختِ جگر کو دور دلیس روانہ کر دیا۔صلى الله ابھی ان مہاجرین کو اللہ کی راہ میں حبشہ کی طرف ہجرت کئے تین