حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب

by Other Authors

Page 11 of 17

حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 11

حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 11 پڑھ کر خاموش ہوگئیں اور پھر ان کے لئے دعائے مغفرت مانگی اور ان کی تدفین کے لیے دو چادر میں حضور اللہ کو پیش کیں۔تدفین کے بعد آپ واپس مدینہ چلی گئیں۔جب حضرت صفیہ اپنے پیارے بھائی کے لئے دعائے مغفرت مانگ کر اپنے آنسو ضبط نہ کر سکیں اور بے اختیار رونے لگیں سرور دو عالم سے نے انہیں روتے دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو گئے۔آپ ﷺ نے حضرت صفیہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :۔” مجھے جبرائیل امین نے خبر دی ہے کہ عرش معلیٰ پر حمزہ بن عبدالمطلب کو اسد اللہ اور اسد الرسول (اللہ کا شیر اور رسول کا شیر لکھا گیا ہے۔‘(10) اس واقعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضرت صفیہ بہت صابر اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہنے والی سچی مسلمان تھیں۔حضرت صفیہ ایک ذہین اور پڑھی لکھی صحابیہ تھیں۔آپ عربی اشعار اور روایات کا علم رکھتی تھیں۔خود بھی شاعرہ تھیں۔آپ بہت عمدہ شعر کہتی تھیں۔آپ نے اپنے والد، بھائی حضرت حمزہ اور آنحضرت علی کی وفات پر بڑے ہی پر در دمر هیے کہے۔(11) رحمت عالم ﷺ حضرت صفیہ کے بھیجے ، خالہ زاد بھائی اور شوہر