حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب

by Other Authors

Page 8 of 17

حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 8

حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 8 کے محلے اور اس قلعہ کے درمیان کوئی فوجی دستہ بھی موجود نہ تھا اور قلعہ سے بنو قریظہ کی آبادی بھی قریب ہی تھی۔ان ہی دنوں میں ایک یہودی اس طرف آنکلا اور قلعے میں موجود لوگوں کے بارے میں معلومات لینے لگا۔اتفاق سے حضرت صفیہ نے اس یہودی کو دیکھ لیا۔وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے سمجھ گئیں کہ یہ شخص جاسوس ہے۔اگر اس نے بنوقریظہ کے لوگوں کو بتا دیا کہ قلعے میں صرف عورتیں اور بچے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ وہ میدان خالی دیکھ کر قلعے پر حملہ کر دیں چنانچہ انہوں نے قلعہ کے نگران حضرت حسان بن ثابت سے کہا کہ با ہر نکل کر اس یہودی کو قتل کر دیں ور نہ یہ جا کر دشمنوں کو خبر کر دے گا اور دشمن یہ سمجھ کر کہ اس قلعہ میں صرف عورتیں اور بچے ہی پناہ گزین ہیں ،قلعہ پر حملہ کر دیں گے۔حضرت حسان بن ثابت نے تامل کیا اور کہا:۔میں اس یہودی سے لڑنے کے قابل ہوتا تو اس وقت رسول اللہ کے ساتھ نہ ہوتا۔“ حضرت صفیہ حضرت حسان کا جواب سن کر فوراً اُٹھیں۔خیمے کی ایک چوب ( لکڑی ) اُکھاڑی اور اس یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا اور وہ وہیں مر گیا۔حضرت صفیہ نے حضرت حسان سے کہا کہ اس کے کپڑے اور ہتھیار اُتار لاؤ تو انہوں نے پھر معذرت