حضرت صفیہ ؓ بنت عبدالمطلب — Page 5
حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب 5 ماہ ہی گزرے تھے کہ اُنہوں نے یہ خوشخبری سنی کہ مشرکین مکہ نے اسلام قبول کر لیا ہے یا یہ کہ رسول اکرم ہے اور کفار کے درمیان صلح ہو گئی صلى الله ہے۔یہ خبر سن کر اکثر مہاجرین مکہ واپس آگئے۔ان میں حضرت زبیر بھی شامل تھے۔لیکن مکہ آکر پتہ چلا کہ یہ خبر غلط ہے ، تاہم حضرت صفیہ اپنے لخت جگر سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور ان کے یوں اچانک بخیریت واپس آجانے پر سجدہ شکر بجالائیں۔مکہ میں کچھ عرصہ قیام کے بعد حضرت زبیر نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور تجارتی قافلوں کے ساتھ شام آنے جانے لگے۔اسی زمانہ میں حضرت صفیہ نے حضرت زبیر کی شادی حضرت ابو بکر کی بیٹی حضرت اسماء سے کر دی۔رض جب آنحضرت ﷺ اپنے رفیق حضرت ابو بکر کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو اس وقت حضرت زبیر تجارت کے لئے شام گئے ہوئے تھے۔جب وہ شام سے مکہ واپس آرہے تھے تو صلى الله راستہ میں سرور دو عالم ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق سے ملاقات ہوئی جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جارہے تھے۔حضرت زبیر نے حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر صدیق کی خدمت میں چند سفید کپڑے تحفہ پیش کئے اور وہ یہی سفید کپڑے زیب تن فرما کر مدینہ میں داخل ہوئے۔