سفر یورپ 1924ء — Page 83
۸۳ حضرت سے وقت لے چکا ہے۔اب رقعہ لکھ کر حضرت کے حضور پھر پیش کیا گیا ہے اور وہ رقعہ شیخ توفیق آفندی ایوبی نے اپنے شاگرد کے نام بھیجا ہے کہ ہم باہر بیٹھے ہیں ہمیں بھی وقت لینے دو۔حضرت صاحب باہر تشریف لے آئے ہیں اور اب بالائی ڈرائینگ روم میں علماء اور اس مفتی کے بیٹے سے جس نے اشتہار کی اشاعت روک دی ہے باتیں کر رہے ہیں۔مختلف مسائل پر گفتگو جاری ہے جن میں سے کسر صلیب اور قتل خنزیر اور جزیہ اُٹھا دینے کے معانی و مطالب پر حضور ذکر فرما رہے ہیں اور علماء ور و ساوا مرا ہجوم کئے بیٹھے ہیں۔خلق خدا کا انبوہ واثر دہام نیچے بے قرار کھڑا انتظار کر رہا ہے۔پولیس ہوٹل میں پہنچ گئی ہے اور لوگوں کو داخلہ سے روک رہی ہے البتہ چند علماء جو موجود ہیں باتیں کر رہے ہیں۔ہوٹل کا مینجر پھر آیا اور کہتا ہے کہ دو گھنٹہ کے اندر اندر میرا ہوٹل خالی کر دو۔میں روپیہ کی پرواہ نہیں کرتا اگر آپ ایک سو پونڈ بھی روزانہ دیں تو میں منظور نہ کروں گا۔کئی سو آدمی ہوٹل کے دروازہ پر جمع ہے اور دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔مینجر نے یہ امر پولیس کو جو اندر موجود ہے کہا ہے جس پر ایک دو سپاہی نیچے گئے ہیں تا کہ دروازہ کی حفاظت کریں۔توفیق ایوبی نے ایک لمبا وعظ شروع کر دیا تھا۔اس کو ایک شخص نے ٹوک دیا ہے اور روکا ہے کہ آپ نے وعظ شروع کر دیا ہے ہم تمہاری باتیں سننے کو نہیں آئے۔ہم ان ہی کی باتیں سنیں گے جن کی سننے کو ہم جمع ہوئے ہیں آپ تو پھر بھی سنا سکتے ہیں۔الغرض آپس میں بحث ہو گئی ہے۔مولوی کہتا ہے کہ یہ لوگ تارک الصلوۃ ہیں۔کل جمعہ کا دن تھا ، مسجد میں گئے ، اذان ہوئی مگر یہ لوگ مسجد سے لوٹ آئے اور اذان اور موذن کی پکار کا ذرہ بھی خیال نہ کیا۔حضرت صاحب سے جواب مانگا کہ آپ کیوں اذان سن کر واپس آ گئے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم بتاؤ کہ صحابہ اس طرح سے نماز پڑھا کرتے تھے جس طرح تم پڑھتے ہو۔چار مصلے بنارکھے ہیں۔الگ الگ جماعت ہوتی ہے چنانچہ اس بات کا صاف اقرار کیا اور کہا کہ واقعی یہ خطا ہے۔آخر تنگ آ کر پولیس نے علماء کو بھی کہا ہے کہ یہ مقام بحث و مباحثہ کا نہیں ہے مسجد میں چلے جائیں چنانچہ توفیق ایوبی تو چلا گیا ہے مگر باقی لوگ ابھی موجود ہیں اور توجہ و اطمینان سے سن رہے