سفر یورپ 1924ء — Page 65
حضور نے فرمایا کہ ہمارے اس سفر سے بہت بڑے فوائد ہوئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سلسلہ کی عظمت اور اہمیت کا لوگوں کو علم ہو گیا ہے اور اب لوگ ہمارے مبلغین اور مبشرین کو یک و تنہا نہ سمجھیں گے۔علماء اور مسلمانوں کے حالات ہم نے بچشم خود دیکھ لئے ہیں۔اب کام کرنا سہل ہوگا اور مبلغین کو ہدایات دینے میں بہت آسانی ہوگی۔شام میں ہمارا مقابلہ ہو گا اور سخت ہوگا مگر انشاء اللہ کامیابی بھی بہت بڑی ہوگی۔عربی ترجمہ پیغام بنام اہل دمشق کا ہو چکا ہے اس کی طبع کا آج ہی انشاء اللہ انتظام ہوگا اور شائع بھی کثرت سے کیا جائے گا۔حضور مع خدام بخیریت ہیں۔دو الگ الگ ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔نماز بعض اوقات یکجا ہوتی ہے بعض اوقات الگ الگ۔دمشق اخراجات کے لحاظ سے ارزاں تر ہے۔ریشمی کپڑا اور اونی کپڑا اچھا اور ارزاں ملتا ہےخصوصاً برقعہ بنانے کا کپڑا بہت اعلیٰ قسم کا ہے ریشمی بھی اور سوتی بھی۔ریشمی کپڑا سیاہ اور دوسرے رنگوں کا بھی ہے۔ساڑھے چھ مجیدی می گز ( ۴۰ اینچ) کے حساب سے ملتا ہے۔اس سے ہلکا ساڑھے چار مجیدی بھی اوسط درجہ کا ملتا ہے۔سوتی کپڑا سوا مجیدی سے پونے دو مجیدی تک کا ملتا ہے۔ہوٹل ان دنوں عموماً بھرے ہوئے ہیں کیونکہ حجاج کثرت سے آتے ہیں۔ڈاک خانہ اور تار گھر رات کو بھی کھلے رہتے ہیں۔ہوٹلوں میں پانی دو قسم کا ہوتا ہے پینے کا اور استعمال کرنے کا۔عام طور پر فوارے اور چشمے لوگوں نے بنائے ہوئے ہیں۔پینے کا پانی پوچھ کر لینا چاہیئے۔ہوٹلوں میں غسل خانوں کا رواج کم ہے نہانے کے واسطے الگ حمام ہیں اور اچھے ہیں۔ہوٹلوں میں بازاری عورتوں کے رکھنے کا گندہ رواج بھی پایا جاتا ہے۔سب سے بڑا اور اچھا ہوٹل وکٹوریا ہے۔دوسرے درجہ پر خدیو یہ۔تیسرے درجہ پر سنتر ال۔اس کے بعد اور بھی ہیں دار السرور - مکہ ہوٹل۔ہوٹل کو عمو مال کندہ بولتے ہیں۔بعض بعض جگہ او تیل بھی لکھا ہوتا ہے۔۷/اگست ۱۹۲۴ ء : سید نا حضرت اقدس آج ۹ بجے کے قریب گورنر کی ملاقات کو تشریف لے گئے ہیں۔خان صاحب اور حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ ہمرکاب ہیں۔