سفر یورپ 1924ء — Page 64
۶۴ مشکل حل اور ضرورت پوری ہوئی۔پھل کثرت سے ہیں اور ارزاں بھی۔انگور ،سیب، ناشپاتی عمدہ قسم ، انجیر دو قسم اعلیٰ درجہ کی وغیرہ خوب ملتے ہیں۔دمشق میں عورتیں کثرت سے بازاروں میں پھرتی ہیں مگر پردہ کا بہت ہی اچھا انتظام ہے۔عورتوں میں شرافت ہے۔آزادی کا جائز استعمال کرتی ہیں۔برقعہ کا طریق بھی اچھا ہے بدن کا کوئی حصہ نگا نہیں۔اونچی ایڑی کی گرگابی کا رواج ہے البتہ برقعہ ذرا اونچا ہے یہ نقص ضرور ہے۔جرا ہیں لمبی پہنتی ہیں یعنی عورتوں کی پنڈلی تک جرابوں کی نزاکت و باریکی کی وجہ سے نظر آتی ہے۔یہ نقص بھی ہے مگر نسبتا کم۔لوگ عورتوں کا احترام کرتے ہیں ان کے لئے راستہ چھوڑ دیتے ہیں اور مستورات کی طرف قطعاً کوئی نہ گھورتا نہ نظر اُٹھاتا ہے۔خوشی ہے کیونکہ یہ طریق بہت ہی پسندیدہ ہے۔آزادی ہے مگر مصر والی حد سے بڑھی ہوئی آزادی نہیں۔برقعہ خوشنما عموماً سیاہ ہے مگر اس میں مصر کی سی بے پردگی نہیں ہوتی۔عورتیں پھرتی ہیں اور سودا سلف کرتی ہیں مگر مصر کی طرح سے بے باک اور اپنی خوبصورتی دکھانے اور تَبَرَّجُ الْجَاهِلِيَّةِ کی غرض سے نہیں۔یروشلم اس امر میں اول نمبر پر تھا اور دمشق دوسرے نمبر پر ہے۔گورنمنٹ سے لوگ بہت شاکی ہیں اور خوفزدہ ہیں بات بھی کھل کر نہیں کر سکتے۔تبلیغ تو علماء تک نے چھوڑ رکھی ہے اور اس بات کا صاف اقرار کرتے ہیں کہ ہم لوگ تبلیغ نہیں کر سکتے۔کل مولوی عبد القادر صاحب نے بھی اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ہم لوگ تبلیغ دین ہرگز نہیں کر سکتے کیونکہ ہم گورنمنٹ سے بہت ڈرتے ہیں۔گاڑی بیروت کو روزانہ ۱۲ بجے جاتی ہے اور ۴ بجے بیروت پہنچتی ہے۔حیفا کو ایک دن چھوڑ کر جاتی ہے۔اب جمعہ کے دن ۸/ اگست کو جائے گی جس پر حضرت کے واپس جانے کا ارادہ ہے اگر پورٹ سعید سے لک والوں کا کوئی تار نہ آ گیا تو۔کنگ والوں کو ۵ اگست کے دن ایک تار دیا تھا کہ پلسنا جہاز کی عدن سے روانگی اور پورٹ سعید کی رسیدگی کی اطلاع دیں۔تار کا جواب ابھی تک نہیں آیا انتظار ہے۔