سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 51 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 51

۵۱ اور محبت سے ملنے لگے۔ان میں ایک لڑکا شوقی صاحب کا بھائی اور دوسرا سالا تھا۔حضرت میاں صاحب سلمہ ربہ نے فوراً ان کے گھر سے ایک کرسی منگا کر ان بچوں کا فوٹو لے لیا اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد اور ڈاکٹر صاحب ان بچوں کے اندر کھڑے ہو گئے۔مکان کا ایک حصہ فوٹو میں لینے کی کوشش کی گئی مگر بعد میں معلوم ہوا کہ فاصلہ لینے میں جلدی کی وجہ سے غلطی ہوئی۔شاید فوٹو صاف نہ آیا ہو یا خراب ہی ہو گیا ہو۔شوقی صاحب کے باپ ابھی گھر سے باہر نہ آئے تھے کہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ فوٹو وغیرہ لے کر بچوں کو پیار کرتے ہوئے واپس آگئے۔لڑکوں نے یا ان کے نوکر نے اعزاز کے طور پر بطور نذرانہ ایک خوشه انگور اپنے مکان سے صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ کو دیا جو لے لیا گیا اور سید نا حضرت کے حضور پیش کیا گیا۔حضور نے تمام حالات سن کر فرمایا کہ بہت اچھا اب اس خوشه انگور کے عوض واپسی پر ان بچوں کے لئے کوئی تحفہ ہم بھی لے آویں گے۔صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ رتبہ کے مکان پر جانے اور فوٹو لے کر واپس آ جانے کا علم شوقی صاحب کے باپ کو بھی ہو گیا اور وہ جلدی جلدی ملاقات کر نے کوٹیشن پر آیا مگر حضرت اقدس چونکہ پہلے ہوٹل کو گئے ہوئے تھے جہاں سے سامان لیا اور پھر سٹیشن پر تشریف لائے لہذا شوقی صاحب کے والد صاحب مولوی عبدالرحیم صاحب درد سے ملے اور پوچھا کہ کیا آپ ہمارے مکان پر گئے تھے؟ مولوی صاحب نے کہا ہاں مگر کوئی بات نہ ہو سکی کیونکہ گاڑی چلنے میں بہت تھوڑا وقت تھا بمشکل سامان پہنچا کر ٹکٹ لیا گیا۔وہ دو ایک اور آدمیوں کو لے کر اسٹیشن پر آئے تھے کہ ملاقات ہوگی اور حالات معلوم ہوں گے مگر گاڑی کی جلدی کی وجہ سے کسی کو بھی فرصت نہ ہوئی کہ ان سے بات چیت کرتا اور ہم لوگ گاڑی پر سوار ہو کر جلدی حیفا سے رخصت ہو گئے۔ریل میں جو عکہ کے حالات سنے گئے : عکہ کے متعلق بعض حالات ہمیں عکہ کے مقامی لوگوں ہی کے ذریعہ سے جو گاڑی میں ہمارے ہم سفر تھے معلوم ہو گئے تھے۔عکہ کی کل آبادی ۱۵۰۰ نفوس پر مشتمل تھی جن میں سے ۹۰۰ کے قریب مسلمان باقی یہود ونصاری ہیں۔ان میں بابیوں کی کوئی حیثیت اور نام نہیں۔بہت کریدنے سے معلوم ہوا کہ تھے کچھ لوگ مگر اب وہ منتشر ہو گئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ۴۰ نفوس ان کے عکہ میں ہوں گے ان کو وہاں کوئی وقعت نہیں لوگ منافق کہتے