سفر یورپ 1924ء — Page 476
حضور تشریف لائے ہیں۔دل ہی دل میں شہر کو دیکھنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔نظریں شہر کی طرف گڑھی ہوئی ہیں۔ہم لوگ آمین آمین اللہم آمین کہتے جاتے ہیں۔یہ مخفی ہیں وہ دونوں دعائیں ہاتھ اٹھا کر ہوں گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔حضور دوربین لے کر پھر اوپر تشریف لے گئے ہیں۔دنا دن کی آواز میں آ رہی ہیں۔ہم بالکل شہر کے پانیوں میں آن پہنچے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ یہ دنا دن کیسی ہے مگر میں اس سے فال نیک لیتا ہوں کہ حضور کی کامیاب واپسی کے لئے سلامی اُتاری جا رہی ہے اور خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔سمندر کنارے پر دوست با قاعدہ کھڑے ہیں۔ایک انتظام ہے اور ایک ترتیب۔ایک سبز پوش غالباً حضرت مفتی صاحب ہیں اپنی جگہ پر کھڑے رومال ہلاتے ہیں۔تکبیر میں کہتے ہیں۔ہاں ہاں وہ حضرت مفتی صاحب ہی ہیں بلکہ نیک محمد صاحب بھی ہیں میں نے دیکھ لئے۔سید بشارت احمد صاحب ہیں۔مولوی عبد السلام صاحب ہیں۔سیٹھ غلام غوث صاحب شیخ نیاز احمد نسپکٹر - حافظ عبدالوحید صاحب منصوری - شیخ ابراہیم علی صاحب اور بھی بہت سے دوست ہیں جن کے نام ہی مجھے نہیں آتے۔حاجی عمر الدین صاحب بھی ہیں مگر افسوس نہ حضرت میاں ناصر احمد صاحب نظر آئے ہیں نہ میاں مبارک احمد صاحب اور نہ ہی وہ گر جنے والے بر سے ہیں نہ معلوم کیا وجہ ( با بو فخر الدین صاحب ) ہاں ہاں سیٹھ عبداللہ الہ ین بھائی بھی آئے ہیں۔اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر - وه لواهلا وسهلا و مرحبا کے نعرے بلند ہوئے۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کے تھے ایک دوسرے کو دیے جا رہے ہیں۔الحمدللہ۔الحمد لله ثم الحمد لله رب العلمين سیڑھی جہاز پر لگ گئی ہے اور لوگوں کو اوپر آنے کی اجازت ہوگئی ہے۔سامان وغیرہ کی نگرانی اور دوستوں کی ملاقات کی وجہ سے میں اب اپنے عریضہ کو یہیں بند کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح سے آج ہی روا نہ ہو کر جمعہ کے دن قادیان پہنچ جاوے۔فقط والسلام عبدالرحمن قادیانی از بمبئی ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء