سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 457 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 457

۴۵۷ سے قادیان کوروانہ کرنے کے لئے تارلکھ رہے ہیں۔کھانے کی پہلی گھنٹی بجی۔دوسری بھی ہو گئی ہے اور حضور اب کھانے کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔سیکنڈ والے بھی چلے گئے۔رہ گئے ہم چبوترے والے- ہمارا بھی دستر خوان بچھ گیا اور کھانا چنا جا رہا ہے۔یہ روحانی جسمانی نعماء خدائے دو جہاں نے سیدنا مسیح پاک کے طفیل بخشیں۔شکر ہے۔کھانے سے فارغ ہو کر جلدی حضور نمازوں کیلئے تشریف لے آئے کیونکہ ۳ بجے کے قریب یا بعد جہاز عدن پہنچے والا ہے۔نمازوں سے فارغ ہو کر دیکھا تو عدن سامنے ہے۔آج کی نمازوں میں بھی حضور نے دعاؤں کو لمبا کیا ہے۔سرزمین حجاز ہماری آنکھوں کے سامنے صبح سے ساتھ ساتھ چلی آتی ہے جس کا دیدار جس کی زیارت بار بار عالم خیال میں حرم کعبہ میں لے جا کھڑی کرتی ہے جس سے خون میں جوش، دلوں میں تڑپ اور اعضاء میں حرکت ہوتی اور دل پکھل کر پانی کی طرح بہنے لگتا ہے۔دعاؤں کا وقت ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دوستوں کے دل عموماً نرم ہیں۔اللہ کریم ان کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے آمین۔حضور اپنے کمرے میں تشریف لے گئے ہیں۔دوست جہاز کے کناروں پر کھڑے ارضِ حجاز کی طرف ٹکٹکی لگائے ہیں۔جہاز والے جہاز کے ہولڈوں کو کھولنے میں مصروف ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنا سامان اُٹھانا پڑا ہے۔ایسے وقت میں سامان کی ہیرا پھیری دوبھر معلوم ہوئی مگر دل کو سمجھا لیا کہ آخر یہ بھی تو تمہارا فرض ہے۔جہاز ٹھہر گیا۔پائلٹ آ گیا اور جہاز کو خراماں خراماں پورٹ کے اندر لے جا رہا ہے۔چھوٹی کشتیاں مسافروں کو لئے ہوئے بعض ڈونیاں سامان تجارت سے بھری ہوئی۔موٹر لانچ پولیس اور سرکاری ڈاکٹر کو لے کر چاروں طرف سے جہاز کے ارد گرد جمع ہونے شروع ہو گئے ہیں۔کشتیوں میں عرب تجار کا عربی اردو اور انگریزی میں سودے کرنا اور مسافروں کا تختہ جہاز سے جھک جھک کر ضروریات کے وصول کی کوشش کرنا۔آوازے اور شور و پکار عجیب چہل پہل پیدا کر رہے ہیں۔مسافر جہاز سے اترنے والے اُترنے کی جلدی میں ، سیر کے لئے شہر کو جانے والے وقت کی بچت کے خیال سے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر پولیس مین ابھی اجازت نہیں دیتا۔لوگوں کی گھبراہٹ ان کے چہروں سے عیاں ہے۔