سفر یورپ 1924ء — Page 438
۴۳۸ آئے۔نماز کے بعد بیٹھ گئے۔تھرما میٹر لگایا تو معلوم ہوا کوئی ایک ڈگری کے قریب حرارت ہے۔ڈاکٹر صاحب نے دوائی دی اور حضور تھوڑی دیر تک تشریف رکھ کر اپنے کمرہ میں چلے گئے یا اوپر ٹہلتے رہے۔ظہر وعصر کی نماز کے لئے حضور کا بہت انتظار کیا گیا کمرہ کے اندر تھے مگر جواب نہ آیا جس سے اندازہ کیا گیا کہ حضور حرارت کی وجہ سے تکلیف میں تھے اب سو گئے ہیں چنانچہ نمازیں حافظ صاحب نے پڑھا دیں۔نماز پڑھ کر ہم لوگ فارغ ہوئے ہی تھے کہ حضور بھی تشریف لے آئے مگر یہ معلوم کر کے کہ ہم لوگ نماز پڑھ چکے ہیں حضور اپنے کمرے میں واپس تشریف لے گئے اور پھر شام اور عشاء کی نمازوں کے واسطے تشریف لائے اور دونوں نمازیں حضور نے جمع کر کے پڑھائیں اور نماز کے بعد کھانا کھانے تشریف لے گئے۔کھانے کے بعد پھر حضور تشریف لائے اور دیر تک ٹہلتے اور باتیں کرتے رہے۔باتوں میں زیادہ تر حصہ پورٹ سعید سے تار کے مضمون کے متعلق تھا۔حضور کو خیال تھا بلکہ فرمایا بھی تھا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ ( الفاظ ٹھیک یاد نہیں ) شاید ہمارے اس سفر کے متعلق ہو۔لہذا اگر ہمارا جہاز ۱۷ نومبر کو بمبئی پہنچے جو اس کے پہنچنے کی مقررہ تاریخ ہے تو اس طرح سے سر زمین ہند پر پہنچنے کا دن بھی دوشنبہ ہوگا اور یہ خدا کا کام ہے کہ ہمارے ارادہ اور خواہش کے بغیر ہی ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ دوشنبہ کے دن ہم لوگ پہنچیں گے مگر بعد میں جہاز کے راستہ میں لیٹ ہو جانے اور رفتار کی کمی سے اندیشہ ہوا کہ شاید بجائے ۱۷؎ کے ۱۸ کو بمبئی پہنچے تو ایک دوسری صورت بھی الہام کے پورا ہونے کی ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ قادیان ۲۴ کے دن پہنچیں گے جو کہ دوشنبہ کا دن ہو گا۔یہ تجویز ہمارے علمائے کرام کی طرف سے پیش کی گئی اور کسی قدر زور بھی دیا گیا مگر حضور نے ابھی تک ان امور کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں دیا۔ابھی تک غالب رائے یہی ہے کہ ۱۹/ کو سوار ہو کر ۲۱ کی صبح کو قادیان پہنچیں۔گوحضور کا یہ خیال کہ جمعہ قادیان میں ادا کیا جائے ۷ار اور ۱۸؎ کے جھگڑے کی وجہ سے بدل گیا ہے کیونکہ اگر ۷ار کو جہاز کا پہنچنا یقینی ہوتا تو ۱۸ رکو روانہ ہو کر ۲۰ کی شام بٹالہ ۲۱ کی صبح قادیان اور نما ز جمعہ وہیں پڑھانا منظور تھا مگر ۲۴ کو پہنچنے کی تجویز ابھی تک حضور نے منظور نہیں فرمائی غور ہو رہا ہے غالباً پورٹ سعید پہنچ کر وہاں کی ڈاک ہند دیکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا۔ایک بات آج حضور کے خدام میں سے خادم خاص چو ہدری علی محمد صاحب کے متعلق