سفر یورپ 1924ء — Page 405
۴۰۵ جواب = حضرت اقدس نے فرمایا کہ لکھنے کی تو ان کو عادت نہ تھی وہ ہمیشہ زبانی یا درکھتے تھے بلکہ لکھنے کو ہتک سمجھتے تھے۔اس لئے محض تحریر میں نہ ہونے کی وجہ سے یہ کہنا کہ عربوں میں اسلام سے پہلے کوئی نظم نہ تھی ایک بالکل سچی بات ہے۔سرڈینی سن راس کچھ دیر گفتگو کرتا رہا اور زور دیتا رہا کہ جب تحریر نہیں تو پھر ثبوت کیا ہے کہ نظم اس زمانہ سے پہلے موجود تھی۔حضور نے ذیل کے پانچ عقلی دلائل دیئے جس کو سن کر اس کا اعتراض دور ہو گیا اور کہا کہ مار گولی ایتھ کا خیال بالکل غلط ہے اور اس خیال کا کوئی ثبوت نہیں۔(۱) قرآن شریف میں ذکر ہے کہ قرآن کو سن کر وہ نبی کریم کو شاعر کہتے تھے۔اگر عربوں میں قرآن سے پہلے کوئی شعر نہ تھا تو وہ شاعر کی حقیقت کیونکر سمجھ سکتے تھے۔(۲) وہ قصائد جن کو اسلام سے پہلے زمانہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ان میں ایسے عقائد ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں اور نصرانیت کی تائید اور توصیف میں ہیں اور وہ خیال نہ صرف اسلام کے خلاف ہیں بلکہ اسلام نے ان کی تردید کی ہے۔یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ مسلمان ایسے شعر بنا ئیں جن میں خلاف اسلام خیالات کو ظاہر کریں۔(۳) لبید کا دیوان موجود ہے اور یہ امر تاریخ سے ثابت ہے کہ اس نے قرآن شریف کے آنے کے بعد کوئی شعر نہیں کہا۔پس اس کی طرف جو اشعار منسوب ہیں وہ سب زمانہ جاہلیت ہی کے ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ ان کی زندگی میں کوئی دوسرا شخص ان کی طرف منسوب کر کے شعر بیان کر دے اور وہ چپکے بیٹھیں رہیں انکار نہ کریں۔(۴) بصری اور کوفی دونوں آپس میں زبان کے قواعد پر ہمیشہ جھگڑتے رہے ہیں اور ہر ایک دوسرے کی تردید میں پرانے اشعار سے استدلال کرتا رہا ہے۔اگر مارگولی ایتھر کی یہ بات صحیح ہے کہ قرآن کریم سے پہلے کوئی شعر موجود نہ تھا تو بجائے اس کے کہ کوفی یا بصری ان اشعار کی تاویل کی طرف مشغول ہوتے اور اس میں اپنا وقت خرچ کرتے ان کو صاف کہہ دینا چاہیے تھا کہ یہ شعر تو حقیقتاً بعد میں بنائے گئے ہیں ان سے استدلال کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے؟ ☑ (۵) قبل اسلام زمانہ میں عربوں کی طرف لاکھوں اشعار منسوب کئے جاتے ہیں۔ان تمام