سفر یورپ 1924ء — Page 380
۳۸۰ ہے اور وہ ہر شخص کی نیت ، اخلاص اور قوت عمل پر مختلف ہوتی ہیں۔پس ایک امر میں اتحاد کامل اور دوسری طرف اختلاف کامل پیدا کرنا ہی ترقی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ایک مقام پر کھڑے ہو جانا ترقی کا مخالف ہے۔پس چاہیے کہ اتحاد احوال اور اختلاف احوال انسان میں موجودر ہے اور انسان ایک ہی جگہ کھڑا نہ رہے۔اختلاف ترقی کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے کیونکہ اس سے انسان کے دل میں بعض دوسری چیزوں کے حصول کی خواہش پیدا ہو کر محنت اور کوشش کی ترغیب پیدا کرتا ہے اور انسان ترقی کرتا ہے۔جس طرح انسان کو بعض احوال میں انسانوں سے اختلاف ہو اسی طرح سے اس کی اپنی ذات میں بھی اختلاف ہو اور اس کا ایک دن دوسرے دن سے مختلف ہوتا رہے۔جس کے دودن برابر ہو گئے وہ گھاٹے میں ہے کیونکہ وہ کھڑا ہو گیا اور اس کی ترقی رک گئی اور ترقی رکی تو خوشی کہاں ؟ رسول کریم نے فرمایا ہے۔اِخْتِلَافُ أُمَّتِی رَحْمَةٌ اس میں یہی راز پنہاں ہے۔دنیا میں اگر پگڑی صرف ایک ہی قسم کی ہوتی یا کوٹ ایک ہی رنگ اور طرز کے ہوتے یا کپڑا ایک ہی قسم کا ملتا تو لوگ اس کو حاصل کر کے تسلی پا جاتے اور اس طرح سے ترقی رک جاتی مگر ضروریات انسانی مختلف ہیں اعلیٰ سے اعلیٰ اور ادنیٰ سے ادنیٰ بھی۔اس لئے ہر انسان کے دل میں اعلی چیزوں کے حصول کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ کوشش کر کے ترقی کرتے ہیں۔یہی حال دینیات اور روحانیات کا ہے۔عبادات میں اگر صرف نماز ہی ہوتی تو لوگ فقط نماز پڑھ کر تسلی پا جاتے مگر ایسا نہیں۔جسمانی حالات کی طرح روحانی مدارج میں بھی اختلاف ہیں۔اس لئے انسان روحانیات میں بھی اعلیٰ مدارج کے حصول کے لئے اجتہاد اور کوشش کرتا ہے اور ترقیات حاصل کرتا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں بھی یہی راز پوشیدہ ہے - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں انسان ایک تو اشتراک اور اتحاد کا اظہار کرتا ہے اور اس طرح سے عبادت اور استعانت میں ایک اتحاد پایا جاتا ہے لیکن صراط میں اختلاف ہے۔زید کسی راہ کو پسند کرتا ہے اور بکر کسی راہ پر جاتا ہے عمر کسی راہ کو اچھا جانتا ہے مگر مومن صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی درخواست کر کے اعلیٰ مقامات اور اعلیٰ انعامات کے حصول کی خواہش کرتا ہے اور حقیقتاً یہی ترقیات کی راہ ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق بخشے۔آمین