سفر یورپ 1924ء — Page 381
۳۸۱ حضرت اقدس گیارہ بجے کے بعد چوہدری علی محمد صاحب کو ساتھ لے کر باہر تشریف لے گئے اور پونے دو بجے واپس آئے۔کھانا میز پر کھایا۔ملک غلام فرید صاحب کی بیوی ہندوستان جانے سے عذر کرتی ہیں کہ میں بیمار ہوں کمزور ہوں اتنے لمبے سفر کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتی۔حضرت اقدس نے لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کرایا جس نے مشورہ دیا کہ کوئی حرج نہیں جا سکتی ہیں۔اگر ملک غلام فرید صاحب نہ بھی گئے تب بھی فیصلہ ابھی تک یہ ہے کہ چوہدری فتح محمد خان صاحب یہاں ضرور ر ہیں تا کہ دونوں کو کام سکھا دیں۔تبلیغی ضروریات کے لحاظ سے ملک صاحب کا ٹھہر جانا مفید ہے مگر ان کے گھر کے حالات ایسے ہیں کہ ان کا جان ہی بہتر ہے کیونکہ زچگی کی حالت میں خدا نخواستہ اگر کوئی بیماری ہوگئی تو پھر ا خلاقاً ان اخراجات کا ادا کرنا ہمارے ذمہ ہو گا مگر ہماری مالی حالت ان اخراجات کی متحمل نہیں نظر آتی - ملک غلام فرید صاحب سے مشورہ کر کے فیصلہ کریں گے۔طبی مشورہ یہ ہے کہ ان کا یہاں رہنا جانے سے زیادہ خطرناک ہے۔جانے میں بظاہر کا ئی خطرہ نہیں صرف خیالی تکلیف ہے مگر چونکہ ان کے پھیپھڑے کمزور ہیں ، سردی کا موسم ہے مبادا کوئی تکلیف ایسی ہو کہ جان کا خطرہ ہو یا اخراجات کثیرہ کا زیر بار ہونا پڑے۔حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ حالات یہ ہیں مگر اگر وہ تکلیف محسوس کرتی ہیں تو ہم کیوں کہیں کہ وہ ضرور جائیں۔خدانخواستہ اگر کوئی بیماری ہو جائے تو ساری ذمہ داری مجھ پر عائد ہوگی لہذا میں تو اپنا ارادہ بدل لوں گا۔مجھے تو فائدہ ہے کیونکہ ایک سو پونڈ میں نے اپنے پاس سے دیا ہے۔میں نے اپنے کئی سو دے روک کر یہ روپیہ دیا ہے۔نہ معلوم کہ مجھے دفتر سے ملے گا بھی یا نہیں اگر ملے گا تو کب- گزشتہ سال مولوی مبارک علی صاحب کا دس پونڈ خرچ تھا مگر ان کی زچگی کی وجہ سے پچاس پونڈ تک اخراجات جا پہنچے تھے وغیرہ۔فرمایا مالی حالات قادیان میں یہاں تک پہنچے ہوئے ہیں کہ مجھے بعض گھروں کی فاقہ کسی کی خبریں ملی ہیں۔میرا ذاتی روپیہ جو ان کے پاس تھا وہ بھی دفتر والوں نے خرچ کرلیا ہے اور مجھے لکھا ہے کہ اُمید ہے کہ آپ بُر انہیں منائیں گے۔میں نے اگر ہوشیار عورتوں کی طرح سے اِدھر اُدھر سے لے کر جمع نہ کر دیا ہوتا جو لوگوں کی