سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 362 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 362

۳۶۲ تعلیم پر عمل کریں گے وہ اپنے تجربہ سے ان باتوں کی صداقت معلوم کریں گے اور میں اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل درست ہے۔میں نے خود بھی اسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی باتیں سنی ہیں جس طرح موسی اور مسیح کے زمانہ کے لوگ سنتے تھے اور خدا تعالیٰ نے کئی دفعہ مجھے ایسے نشان دکھائے ہیں جو انسانی طاقت سے بالا تھے۔(۵) آپ کہتے تھے کہ بچے مذہب کی علامت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی زندگی کے سامان کرتا ہے اور فرماتے تھے کہ اسلام کو انسانی خیالات کی تعدی سے محفوظ رکھنے کیلئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے نبی بھیجتا رہے گا جو اس کی حفاظت کریں گے۔چنانچہ ابھی ایک نبی احمد ہندوستان میں اسی غرض سے ظاہر ہوا ہے اور میں اس کا خلیفہ ہوں اور میرے ساتھی اس کی جماعت میں سے ہیں۔(1) آپ فرماتے تھے کہ باوجود مذہبی اختلافات کے لوگوں کو آپس میں محبت سے رہنا چاہیے اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے جھگڑنا نہیں چاہیے کیونکہ اگر اس کے پاس سچائی ہے تو اس سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے وہ سچائی کو پیش کرے خود ہی لوگ متاثر ہوں گے۔چنانچہ آپ اپنی مسجد میں عیسائیوں کو بھی عبادت کرنے کی اجازت دیتے تھے اور یہ ایسی وسعت حوصلگی ہے کہ اُس وقت کے لوگ تو الگ رہے آج کل کے لوگ بھی اس کی مثال نہیں پیش کر سکتے۔(۷) آپ اس امر پر بہت زور دیتے تھے کہ انسانی زندگی کے دو پہلو ہیں۔ایک روحانی اور ایک جسمانی اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ایسے وابستہ ہیں کہ الگ نہیں ہو سکتے۔جسمانی حصہ روحانی پر اثر ڈالتا ہے اور روحانی جسمانی پر۔پس آپ کی تعلیم میں اس امر پر خاص زور تھا کہ بغیر دلی پاکیزگی کے ظاہری عبادتیں فائدہ نہیں دے سکتیں اور یہ بھی کہ ظاہری عبادتوں کے بغیر خیالات کی بھی تربیت نہیں ہو سکتی اس لئے کامل تربیت کے لئے انسان کو دونوں باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔(۸) آپ انسان کی اخلاقی حالتوں کے متعلق یہ تعلیم دیتے تھے کہ سب انسان پاک فطرت لے کر پیدا ہوتے ہیں اور جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ پیدائش کے بعد غلط تعلیم یا تربیت سے پیدا ہوتی ہے۔پس آپ بچوں کی نیک تربیت اور اعلی تعلیم پر خاص طور پر زور دیتے تھے۔(۹) آپ اس امر پر بھی زور دیتے تھے کہ اخلاق کی اصل غرض انسان کی اپنی اور دوسرے لوگوں کی اصلاح ہے۔پس اخلاق فاضلہ وہی ہیں جن سے انسان کا نفس اور دوسرے لوگ پاکیزگی