سفر یورپ 1924ء — Page 351
۳۵۱ معلوم ہوئی مگر مستقبل آپ کے لئے کچھ اور چھپائے ہوئے تھا۔اس واقعہ کے چند ہی ماہ کے بعد آپ کو پھر وحی ہوئی جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سب لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلائیں اور بدی کو دنیا سے مٹائیں اور شرک کو دور کریں اور نیکی اور تقوی کو قائم کریں اور ظلم کو دور کریں۔اس وحی کے ساتھ آپ کو نبوت کے مقام پر کھڑا کیا گیا اور آپ کے ذریعہ سے استثناء باب ۱۸ آیت ۱۸ کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ ” میں تیرے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا۔آپ بنو اسماعیل تھے جو بنواسرائیل کے بھائی تھے اور آپ اسی طرح ایک نیا قانون لے کر آئے جس طرح کہ حضرت موسی ایک نیا قانون لے کر آئے تھے۔رسول کریم کو نبوت کا عہدہ ملنا تھا کہ یکدم آپ کے لئے دنیا بدل گئی۔وہ لوگ جو پہلے محبت کرتے تھے نفرت کرنے لگے اور جو عزت کرتے تھے حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگے جو تعریف کرتے تھے مذمت کرنے لگے اور جو لوگ پہلے آپ کو آرام پہنچاتے تھے تکلیف دینے لگے مگر چار آدمی جن کو آپ سے بہت زیادہ ملاقات کا موقع ملتا تھا وہ آپ پر ایمان لے آئے۔یعنی خدیجہ آپ کی بیوی ، علی آپ کے چچازاد بھائی اور زید آپ کے آزاد کردہ غلام اور ابوبکر آپ کے دوست اور ان سب کے ایمان کی دلیل اس وقت یہی تھی کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ان چاروں میں حضرت ابوبکر کا ایمان لانا عجیب تر تھا جس وقت آپ کو وحی ہوئی کہ آپ نبوت کا دعوی کریں اس وقت حضرت ابو بکر مکہ کے ایک رئیس کے گھر میں بیٹھے تھے۔اس رئیس کی لونڈی آئی اور اس نے آکر بیان کیا کہ خدیجہ کو آج معلوم نہیں کیا ہو گیا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میرے خاوند اسی طرح نبی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ تھے۔لوگ تو اس خبر پر ہنسنے لگے اور اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو پاگل قرار دینے لگے مگر حضرت ابو بکر جو رسول کریم کے حالات سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے اسی وقت اُٹھ کر حضرت رسول کریم کے دروازہ پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی دعوی کیا ہے؟ آپ نے بتایا کہ ہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کیا ہے اور شرک کے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابو بکر نے بغیر اس کے کہ اور کوئی سوال کرتے جواب دیا کہ مجھے اپنے باپ کی اور ماں کی قسم کہ تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور میں نہیں مان سکتا کہ تو خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولے گا۔پس میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ