سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 315 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 315

۳۱۵ ایک بناوٹ اور فیشن ہوتا ہے وہ الگ ہے۔وہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔یہ باتیں اس بناوٹ اور محض فیشن سے خالی تھیں اور دلی اور قلبی مسرت اور حقیقی خوشی کا اظہار تھا جس میں ایک شمہ بھی بناوٹ کا نہ تھا اور وہ ان کے حرکات اور چہروں سے عیاں تھا۔اور عیاں راچہ بیاں۔شاید کوئی کہہ دے کہ حضرت کے مضمون میں گورنمنٹ کی تعریف اور خوشامد تھی اس وجہ سے ایسا مقبول ہوا اور دلچسپ بنا مگر یہ سراسر غلطی اور حق پوشی ہوگی جو مضمون کو پڑھنے سے صاف طور پر واضح ہو جائے گی لوگ بھی حیران تھے۔وہ ایک بات پر چیئر ز دیتے تھے مگر ساتھ ہی مضمون کا رنگ پلٹ جاتا تھا اور وہ حیرت میں پڑ جاتے تھے کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا۔حضور نے پوری آزادی سے تنقید بھی کی۔گورنمنٹ کی غلطیوں کو بھی ظاہر کیا اور مفید مشورے دیئے۔موجودہ بے چینی اور گھبراہٹ کے اسباب بھی سنائے اور ان کے علاج بھی بتائے۔خوبی کا بھی ذکر کیا اور نقائص بھی کھول کر سنائے مگر سخن کز دل برون آید - نشیند لاجرم بر دل والی بات تھی۔حضور نے ہندوستان اور گورنمنٹ دونوں کی خیر خواہی اور بہتری کی نیت سے جو حق تھا کہہ دیا اور اس حق کہنے میں گورنمنٹ اور رعایا دونوں کی غلطیوں اور خوبیوں کو کھول دیا اور اپنی آزاد و بے لوث رائے ظاہر فرما دی۔حاضرین اور کارکنان نے اپنی بعض غلطیوں کو تسلیم بھی کیا اور ان کی اصلاح کا وعدہ کیا اور ان نئے معلومات پر مزید غور کرنے کا وعدہ کیا جو حکومت اور رعایا دونوں کے لئے یکساں طور پر مفید اور کارآمد ہیں۔جلسہ کے خاتمہ پر قریباً دس منٹ تک پھر خوشی کی باتیں اور مضمون کی تعریف اور خیالات کی توصیف ہوتی رہی۔جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے لہجہ اور انگریزی کی بھی بے حد تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ خالص اور اعلیٰ درجہ کی زبان ہے جس میں نفاست، حلاوت اور شیرینی کے ساتھ ساتھ لمبی حقیقت کو مختصر الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔جلسہ کے بعد حضرت اقدس کے مع رفقاء دعوت چائے پیش کی گئی اور دیر تک پریذیڈنٹ صاحب حضرت اقدس سے اور باتیں کرتے رہے بعض لوگ دوسرے دوستوں سے بڑی دلچسپی اور گہری محبت سے ہمارے خیالات سنتے رہے اور شوق ملاقات ظاہر کرتے رہے جو یقیناً تصنع اور بناوٹ سے نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی معلوم ہوتا تھا۔ایک لائق پروفیسر اور پادری جو اس لیکچر کی خبر پا کر اول مکان پر آئے اور پھر ہمارے ساتھ ہی لیکچر گاہ تک گئے بہت ہی متاثر تھے۔انہوں نے سلسلہ کی بعض کتابیں بھی خرید لیں۔وہ لیکچر کی خوبی سے متاثر ہوکر اپنی کرسی سے بار بار اُچھلتے نظر