سفر یورپ 1924ء — Page 299
۲۹۹ آپ کے خوبصورت حرکات اور اشارات اور آپ کی درخشاں خوش طبعی نے سامعین کو ایسا مفتون اور گرویدہ بنا لیا کہ انہوں نے تحسین و آفرین کی ز بر دست داد دے کر اپنی محبت کا جو ان کو آپ (حضرت اقدس ) کے ساتھ اور آپ کے مذہب اور آپ کی قوم کے ساتھ پیدا ہوگئی اظہار کیا اور ثابت ہو گیا کہ کس طرح بدوں انسانی تدابیر لوگ ایک دوسرے کی طرف ایسے روابط کے ساتھ کھینچے جاتے ہیں جو بآسانی کبھی شکستہ نہیں ہو سکتے۔“ سرتھیوڈور ماریسن آف ڈرہم یونیورسٹی نے جماعت احمدیہ کا پرچہ پڑھا جانے کے وقت کرسی صدارت کو قبول کرتے ہوئے یوں فرمایا : - اسلامی دنیا آغاز سے ہی بہت سے فرقوں میں منقسم ہو چکی ہے اور اب جب کہ خیالات جدید اور نئے علوم کی لہر اسلامی ممالک میں پہنچ چکی ہے یہ جاننا تعجب خیز نہیں کہ نئے فرقہ جات میں زیادتی ہوگئی ہے۔ان نئے علوم اور فرقہ جات کی موجودگی میں لوگوں نے اپنے اپنے مذاہب کو نئے علوم کے مطابق بنانے کی کوشش کی ہے اور اس واسطے وہ اپنی مذہبی کتابوں کے دوبارہ کامل طور پر پڑھنے کے لئے مجبور ہوئے ہیں۔اس کے نتیجہ میں انہوں نے اپنی کتابوں کے بعض مقامات پر زور دینے کی ضروت محسوس کی ہے اور بعض ایسے مقامات جن کو پہلے بہت اہمیت دی جاتی تھی اب کم زور دینا شروع کر دیا ہے۔بعض اوقات یہ تبدیلی رائے چپ چاپ واقع ہو جاتی ہے مگر اس واقعہ میں ( یعنی تحریک احمدیہ ) اسلام کے بین اور صریح اقوال کو دوبارہ قائم اور طاقت دینے کی صورت اختیار کی گئی ہے۔میری عمر میں ان اہم فرقوں میں سے سب سے زیادہ ضروری تحریک وہ ہے جو قادیان پنجاب سے رونما ہوئی ہے۔ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ اصیح اس وقت ہمارے درمیان موجود ہیں جو اس جماعت کے متعلق جس کے آپ امام ہیں آج کچھ بیان فرمائیں گے۔میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ چند الفاظ حاضرین کے لئے بیان فرما دیں۔