سفر یورپ 1924ء — Page 250
۲۵۰ اور اس پیغام کی طرف کان دھر و جو وہ لایا ہے اور پھر ان نفرتوں کا مشاہدہ کرو جو خدا کی طرف سے اسے حاصل ہوئیں اور اس کے قبول کرنے کے لئے بڑھو کیونکہ اسی میں برکت ہے۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری رسمیں اور تمہاری عادتیں تمہارے راستہ میں روک بنیں۔رسمیں روز بدلتی رہتی ہیں اور عادتیں ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔پس کیا خدا کے لئے رسموں اور عادتوں کو نہیں چھوڑو گے؟ لوگ کہتے ہیں کہ ( دینِ حق ) کے احکام سخت ہیں اور عمل میں مشکل مگر کیا وہ خیال کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی یگانگت یو نہی منہ کی باتوں سے مل جائیں گی۔دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا وہ خلاف عقل ہیں یا وہ فساد پھیلانے والی ہیں۔کیا وہ سچی طہارت پیدا نہیں کرتے اگر ایسا نہیں تو کیا وہ محض اس لئے کہ ( دینِ حق ) کے بعض احکام ان کی پرانی عادتوں کے خلاف ہیں اپنے اوپر خدا کی رحمت کے دروازوں کو بند کر لیں گے اور اس کی یگانگت کی نعمت کو رڈ کر دیں گے۔کیا قربانی کے بغیر بھی کوئی نعمت مل سکتی ہے۔تم ایک ہی وقت میں اپنے نفس کی ادنی خواہشوں کو اور خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔سب مذاہب اس امر پر متفق ہیں کہ خدا تعالیٰ موت کے بعد ملتا ہے۔یہ سچ ہے مگر اس کا یہ۔مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ اس موت کے بعد ملتا ہے جو انسان اپنے نفس کی خواہشات پر خدا کی خاطر وار دکر لیتا ہے۔اے لوگو! اس بات سے مت ڈرو کہ لوگ تم پر ہنسیں گے یا تم کو پاگل سمجھیں گے۔کبھی کسی نے سچائی کو ابتدا میں قبول نہیں کیا کہ اسے لوگوں نے پاگل نہیں سمجھا۔کیا موسیٰ کے ماننے والے اور مسیح پر ایمان لانے والے پاگل نہیں سمجھے گئے مگر کیا آخر وہی پاگل دنیا کے را ہنما نہیں بنے ؟ میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اور جس پر جھوٹ بولنے والے کے متعلق تمام آسمانی کتب متفق ہیں کہ وہ ہلاک کیا جاتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے دکھلایا ہے کہ میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں اور میرے ہاتھ پر انگلستان کی روحانی فتح ہوئی ہے۔پس آج نہیں تو کل انگلستان مسیح موعود کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ( دینِ حق ) کی طرف کو ٹے گا مگر مبارک ہے وہ جو اس کام میں سب سے پہلے قدم اُٹھا تا ہے کیونکہ جو شخص حق کے قبول کرنے کے لئے آگے بڑھتا ہے دوسرے لوگ جو اس کے پیچھے آتے ہیں اس کے برابر نہیں ہو سکتے۔اس کے لئے دُہرا اجر ہے ایمان لانے کا بھی اور دوسروں کے لئے محرک بننے کا