سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 171 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 171

درمیان میں سے سیدھی سڑکوں اور باقاعدہ درختوں کی قطاریں بھلی نظر آتی ہیں۔ٹرام ، موٹر اور کچھ گھوڑا گاڑیاں بھی چلتی ہیں۔معلوم ہوتا ہے لوگوں کو اپنے اس قصبہ کی خوبصورتی پر فخر ہے کیونکہ ہر شخص ہم سے اس کی خوبصورتی کی داد چاہتا تھا۔جس سے دو لفظ کلام کرنے کا موقع ملا اس نے پوچھا ہمارے قصبہ کو آپ نے کیسا پایا؟ اور اس میں شک بھی نہیں کہ واقعی قصبہ ہر لحاظ سے اس قابل ہے جس پر باشندوں کا نازحق بجانب ہے۔یورپین شہروں کی خوبصورتی : اٹلی میں سے گزرتے ہوئے روما کے شہر کو دیکھ کر میں نے لکھا تھا کہ یہ شہر نہایت ہی خوبصورت ہے اور شاید کہ اس کا نظیر اور یورپ میں نہ ہو گا مگر جوں جوں یورپ کے اندر گھسے اور قدم یورپ کے وسطی حصہ کی طرف بڑھتا گیا پچھلی خوبصورتی کم ہوتی گئی اور اگلا حصہ پچھلے سے بہت نمایاں طور پر بڑھا ہوا پایا گیا ہے۔فرانس کا شہر پیرس جس میں سے صرف ہم لوگ موٹروں سے گزرے تھے بہت ہی خوبصورت معلوم دیتا تھا۔اس کے سبزہ زار۔اس کی با قاعدہ کھیتیاں۔اس کے باغات۔اس کی چراگاہ جن میں کثرت سے گائے گھوڑے ، موٹی بھیڑیں چرتی تھیں ، نہایت دلکش منظر دکھاتے تھے مگر جو نہی کہ اس چھوٹے سے جزیرہ برطانیہ میں قدم رکھا اس کی شان اور آن بان بالکل نرالی ہی پائی۔- مکانات کا ایک ڈیزائین، بلاک، چوک اور سڑکوں کی عمدگی۔روشوں کی خوبصورتی اور باقاعدگی۔سبزے جنگل اور کھیتوں کی سجاوٹ - باغات اور آبادی کی وضعداری بہت ہی خوبصورت ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارا ملک ہی لاہور کا گویا لارنس گارڈن ہے بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔نہ معلوم ان لوگوں نے کتنی محنت اور کیسی جانفشانی اور کتنے عرصہ کی لگا تار ان تھک کوششوں سے اپنے ملک کو ایسا خوبصورت بنایا ہے۔حقیقتا یہ ملک نہیں بلکہ سارا ہی ایک خوشنما باغ ہے۔باغ بھی وہ کوئی معمولی نہیں بلکہ نہایت شاندار خوبصورت، آراسته و پیراسته گاڑیوں کی کثرت : برائیٹین سے واپسی پر میں نے خود گنا کہ ایک گھنٹہ کے عرصہ میں ہمیں ۳۳ ریل گاڑیاں اس سمت کو جاتی ہوئی دکھائی دیں جدھر سے ہماری گاڑی آرہی تھی۔یہ تو وکٹوریا سٹیشن