سفر یورپ 1924ء — Page 145
۱۴۵ ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسلام میں اصولی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور نہ قیامت تک ہو گی۔اصلاح ہوتی رہی اور ہوتی رہے گی جو امتدادزمانہ کی وجہ سے ضروری ہو جایا کرتی ہے۔(۱۴) کیا آپ کا دوسرے مسلمانوں سے سوشل نقطہ خیال کے لحاظ سے کوئی فرق ہے ؟ جواب میں حضور نے خصوصیت سے عورتوں کی تعلیم ، ان کے حقوق اور بچوں کی تعلیم وتربیت کے متعلق تصریح فرمائی اور اپنا نقطہ نظر ایسے رنگ میں بیان فرمایا کہ اس پر ایک خاص اثر تھا۔(۱۵) آپ نے کہا ہے کہ آپ کے خیالات عورتوں کی تعلیم وغیرہ میں دوسرے فرقہ کے لوگوں سے مختلف ہیں۔کیا آپ کے عقاید میں عورتوں کو حقیر نہیں سمجھا گیا ؟ حضرت اقدس نے فرمایا نہیں بلکہ قرآن کریم دونوں کو مساوات کے حقوق دیتا ہے۔مساوات کے احکام دیتا ہے اور مساوات کے ہی انعامات کا وعدہ کرتا ہے۔(۱۶) کیا تعد دازدواج آپ کے مذہب میں جائز ہے؟ حضور نے فرمایا ہاں۔(۱۷) کیا چار تک؟ فرمایا ہاں اور اسی کے ضمن میں حضور نے مسئلہ غلامی پر بھی تقریر فرما کر اس کو اچھی طرح سے سمجھا دیا کہ اسلام کس قسم کے غلام بنانے کی اجازت دیتا ہے یعنی صرف وار پر زنرز (War Prisoners) اور پھر اس سلسلہ میں اس سے بڑھ کر آزادی کا ذکر وغیرہ حضور نے مفصل بیان فرمایا اور غلاموں کے ساتھ سلوک کا ذکر واقعات اور تاریخی مثالوں سے سمجھایا۔(۱۸) پردہ کے متعلق سوال کیا ؟ حضور نے اس کی فلاسفی اور اصل تعلیم اور حکم بوضاحت بتایا اور بتایا کہ مرد اور عورتوں کے اختلاط سے جو بدیاں پھیلتی ہیں یا خطرات ہوتے ہیں ان کے روکنے اور بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پردہ کا حکم دیا ہے اور اس کی حکمت کو اس طرح واضح فرمایا کہ جس سے حقارت کے خیال کا رڈ ہوتا ہے اور نتائج بد کے روکنے کا بہترین طریق نظر آتا ہے۔(۱۹) کیا عورتیں کوئی کام بھی کر سکتی ہیں ؟ جواب میں فرمایا اس صورت میں اسلام ان کو اور بھی آزادی اور سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنا منہ بھی ایک حد تک نگا کر سکتی ہیں۔کھتی باڑی کے کاموں میں اور جنگوں میں عورتوں کی امداد اور کام کی تفصیل کا ذکر فرمایا۔(۲۰) کیا اسلام میں قانونی لحاظ سے مرد عورت کے حقوق مساوی ہیں؟ اور کیا مرنے کے بعد ان