سفر یورپ 1924ء — Page 146
۱۴۶ کے ثواب و عذاب میں حقوق مساوی ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ مساوی ہیں بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اگر عورت معمولی متقی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے شوہر کے درجہ کے مطابق اعلیٰ درجہ دے گا یعنی مساوات سے بڑھ کر ایک رعایت اور نرمی عطا فرمائی ہے۔(۲۱) دوزخ کی ابدیت یا کیفیت کا سوال تھا۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہمارے عقیدہ میں جہنم ابدی نہیں بلکہ علاج کے طور پر ایک ہسپتال کی مانند مقام ہے جہاں سے علاج ہو کر شفا ہونے کے بعد نکال لیا جاوے گا اور اس کے متعلق سید نا احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی تحقیق کا مفصل ذکر فرمایا جوحضور نے صحیح اسلامی تعلیم اور قرآن کریم ہی سے اخذ فرما کر دنیا کے سامنے پیش فرمائی ہے۔(۲۲) بہشت کی نعمتوں کے متعلق حضور کا کیا خیال ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم ان کو روحانی سمجھتے ہیں مگر ایسا نہیں جیسا کہ نصرانی سمجھتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ جسم بھی ہو گا مگر وہ جسم بھی روحانی ہوگا اور خواب کی مثال دے کر تشریح فرمائی اور انسانی اعمال سے ان نعماء کی مماثلت کا ذکر فرمایا جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔بہت لطیف رنگ میں استدلال فرما کر سمجھایا۔(۲۳) آپ کے اس سفر کی غرض کیا ہے ؟ حضور نے مفصل فرمایا کہ ہم ایک تبلیغی جماعت ہیں۔تبلیغ کا نظام قائم کرنا اصل غرض ہے۔باقی امور ضمنی اور بطور فرع ہیں۔(۲۴) کیا آپ وہاں کے باشندوں کو مسلمان کرتے ہیں؟ کیا مذہب اور پولیٹیکس کا جھگڑا تو نہیں ہوتا ؟ فرمایا ہاں اور اس کے جواب میں حضور نے مفصل ذکر فرمایا اور حضرت مسیح موعود کا اصول کھول کر بیان فرمایا کہ ہم جس حکومت کے ماتحت ہوں ہم اس حکومت کی اطاعت کریں کیونکہ امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک کہ رعایا قائم شدہ گورنمنٹ کے قانون کی پابندی نہ کرے اور اس سے اتفاق نہ کرے۔بعض حالات میں رعا یا گورنمنٹ سے اختلاف کر سکتی ہے مگر امن عامہ کسی صورت میں نہیں تو ڑسکتی۔(۲۵) آپ پرا پیگینڈا کیوں کر کرتے ہیں؟ کتب اخبارات اور مشنریوں کے ذریعہ سے۔(۲۶) کرائیسٹ (Christ) کے متعلق کیا خیال ہے ؟ جواب ہم ان کو خدا کا نبی یقین کرتے ہیں جو یہودیوں کی اصلاح اور احکام تو رات کو قائم کرنے آئے تھے کوئی نئی شریعت لے کر نہیں آئے