سفر یورپ 1924ء — Page 128
۱۲۸ طرف بازار کی دکانات۔ہمارا ہوٹل بھی اسی سڑک کے کنارے بالکل سمندر پر واقع ہے اور بہت ہی خوش منظر مقام پر آباد ہے۔برنڈزی کا علاقہ بہت ہی آباد اور سرسبز نظر آتا ہے۔بازار وغیرہ تو ہم دیکھ نہیں سکے کیونکہ عورتیں گرد جمع ہو جاتی ہیں۔پہلے تو ٹھہرا کر باتیں کرنا چاہتی ہیں یا عجوبہ بنانا چاہتی ہیں اگر ان کی طرف دیکھیں تو مصیبت نہ دیکھیں تو مشکل۔تالی بجانے لگ جاتی ہیں اور شور مچاتی ہیں۔ہم لوگ ان کے لئے ایک سوانگ سے بنے ہوئے نظر آتے ہیں اور تماشا گاہ عالم بھی۔جہاں نکلے لوگوں کا ہجوم ساتھ ہو لیا۔عورتوں کے بلانے پر ان کی بات سنیں تو اول تو سمجھ ہی نہیں آتی دوسرے وہ ہمیں دیکھ کر بے طرح ہنستی ہیں۔مرد بھی ان کو نہیں سمجھاتے کہ پرائے مردوں سے اس طرح بے حجابانہ باتیں کیوں کرتی ہو۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عورتوں کی کثرت ہے اور انہی کی حکومت۔مرد بے چارے ان کے پیچھے پیچھے چلنے والے ہیں۔جب عورتوں کی طرف توجہ نہ کریں تو وہ مذاق کرتی اور ہنستی اور تالیاں بھی بجانے لگتی ہیں چنانچہ اس وجہ سے حضرت اقدس نے حکم دیا ہے کہ بلا ضرورت بازار میں نہ جائیں اور جانا ہو تو گاڑی لے کر جائیں۔ان وجوہات سے بازاروں وغیرہ کی کیفیت بیان نہیں کر سکتے۔پھل میں سے تربوز ، آڑو، آلوچہ ، انگور اور اعلی قسم کا خربوزہ از قسم سردہ ہم لوگوں نے پنج پر ہوٹل میں کھایا۔خربوزہ نہایت ہی شیر میں اور قابل تعریف تھا۔لوگ زیادہ تر غربا اور مزدوری پیشہ نظر آتے ہیں۔آسودگی کے علامات علاقہ معلومہ میں تو نظر نہیں آئے اندرون قصبہ میں شاید مالدار لوگ بھی ہوں گے۔دفاتر میں عورتیں کام کرتی ہیں۔موٹر صرف ایک نظر آتا ہے۔جہاز کئی ادھر سے اُدھر آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں۔ایک گھوڑے کی فٹن (لینڈ و ) جسے بمبئی میں وکٹوریہ کہتے ہیں اکثر نقل و حرکت میں کام آتی ہے۔مزدور ہتھ چھکڑوں سے سامان کو اِ دھر سے اُدھر لے جاتے ہیں۔بعض گاڑیوں میں گدھے بھی بجھتے دکھائی دیئے جن میں فروٹ وغیرہ باہر سے آتا ہے۔برنڈ زی بڑی تجارتی منڈی معلوم ہوتی ہے اور اکثرفتم کا سامان یہاں سے جہازوں پر بار کر کے بیر ونجات کو جاتا دکھائی دیتا ہے۔سکہ کیروں کا چلتا ہے۔انگریزی پونڈ تک بھی عام دفاتر والے نہیں پہچانتے اور نہ قبول کرتے ہیں۔اِدھر اُدھر سے چینج کرا کر لیروں کی شکل میں ادا کرنا پڑتا ہے۔موسم میں قدرے خنکی نظر آنے لگی ہے اور حرارت میں کمی واقع ہونی شروع ہوگئی ہے۔