سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 112 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 112

۱۱۲ عرفانی صاحب اور چوہدری صاحب کو حضرت اقدس نے حیفا سے آگے نکل کر ایک تار دلوایا تھا کہ آپ مال گاڑی کے ذریعہ یا کسی اور طریق سے فوراً قطا را پہنچیں وہاں سے موٹر کے ذریعہ پورٹ سعید پہنچیں۔پورٹ سعید سے ۱۳ کو جہاز روانہ ہوگا اگر آپ لوگ وقت پر نہ پہنچے تو واپس ہندوستان چلے جاویں مگر بعد میں فضل حیفا کی کوشش سے ان کی روانگی کا کچھ انتظام ہو گیا تو حضور نے ان کی سہولت کے تمام سامان مہیا کرائے اور ان کے لئے اخراجات جمع کرا دیئے۔حضرت کی طبیعت متواتر سفروں - شب بیدار یوں۔غذا کی بے ترتیبیوں اور خصوصاً دمشق کی متواتر اور لمبی لمبی تقریروں کی وجہ سے خراب تھی۔بیروت پہنچ کر اس کا حملہ سخت ہوا حتی کہ حضور کی زبان سے تکلیف میں ہائے ہائے کے الفاظ بھی نکلتے سنے گئے۔درد اور تکلیف سے طبیعت ایسی بے قرار و بے چین ہوئی کہ زبان بھی تھراتی تھی اور ہاتھ پاؤں بالکل ٹھنڈے ہو گئے تھے۔ڈاکٹر خاص بلوانے کی ضرورت پڑی اور ابھی کچھ افاقہ نہ ہوا تھا کہ بیروت سے حیفا تک کا سفر موٹر کے ذریعہ کرنا پڑا۔مزید برآں اُس دن حضرت کو دس بارہ دست بھی ہو گئے۔با ایں ہمہ علہ پہنچ کر حضور نے پھر اپنی تکلیف کا کچھ خیال نہ کیا اور آرام پر کام کو مقدم کیا۔گیارہ بجے رات تک بہائیوں سے باتیں کرتے رہے۔۱۲ بجے ہوٹل حیفا میں پہنچے۔کھانے کو ملا کچھ نہ پینے کو۔پھر علی الصباح ۸ بجے گاڑی حیفا سے قنطارا کی طرف روانہ ہوئی۔دن بھر سفر کیا پھر رات بھر جاگے اور جہاز میں سوار ہوئے۔یہ سب - باتیں حضور کی جسمانی تکلیف کا موجب ہوئیں اور دوستوں کے بچھڑ جانے کا صدمہ جدا تھا۔صبح کی نماز حضور نے اپنے کمرے میں ادا کی اور آرام فرمایا۔پھر کئی مرتبہ حضور تھرڈ کلاس ڈیک پر تشریف لائے اور ساتھیوں کا حال پوچھا۔ڈاک کے بعض حصے سنائے اور قادیان سے آئی ہوئی تار کا جواب تار میں لکھا جس میں کل ۳۲۰ لفظ تھے۔تارجب تار گھر بھیجی ( جہاز کے تار گھر میں ) تو معلوم ہوا کہ ۹۰۰ روپیہ کے قریب خرچ ہوں گے تو اس کو ملتوی فرما کر مختصر الفاظ میں ایک تار پورٹ سعید سے لندن کو روانگی کی بھجوائی اور دوسرا تا ر ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے نام لکھایا کہ خلیفہ تقی الدین صاحب کو اطلاع کریں کہ وہ لندن آ سکتے ہیں۔مگر بعد میں قادیان سے آئی ہوئی تار کو دوبارہ مطالعہ فرما کر دوسرا تار بھی بجائے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کے حضرت مولوی شیر علی صاحب ہی کے نام روانہ فرمایا۔جس میں خلیفہ تقی