سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 1 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 1

بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خط نمبرا، از مقام عدن: مورخه ۲۳ جولائی ۱۹۲۴ء برادران قادیان! السلام عليكم و رحمة الله وبركاته قادیان شہر سے حضرت کی روانگی کا نظارہ تو آپ نے دیکھا ہی ہو گا۔ڈلہ کے موڑ کی دعا ئیں بھی آپ نے حضور کے ساتھ کی ہوں گی۔سیدہ حضرت (اماں جان ) نے جب حضور کو ایک بار اور ملاقات کی غرض سے مردوں کے جم غفیر سے اونچے چبوترہ کے جانب شمال بلوا کر دیر تک گود میں لئے ہوئے دعائیں کی تھیں وہ نظارہ بھی آپ کو نہ بھولا ہوگا اور نہ ہی وہ دلچسپ منظر اس قابل ہے کہ کبھی بھولے۔سیدہ حضرت اماں جان) کی آواز پر جس طرح سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی لبیک کہتے ایک تیز تیر کی مانند حضرت اماں جان ) کی طرف بڑھے وہ نقشہ ماں کی آواز پر لبیک اور ماں کے حکم کی تعمیل اور فرمانبرداری کے لئے ایک زریں مثال اور قابل تقلید اُسوہ تھا۔دوستوں کو مصافحہ کا موقع حضور نے دیا اور نہایت کشادہ پیشانی اور خوش خلقی سے ایک ایک کر کے دوستوں سے مصافحہ کیا حالانکہ وقت بہت تنگ تھا اور کارکن غلاموں کی با ادب آوازیں حضور کے گوش گزار ہو رہی تھیں کہ وقت تنگ ہے مگر حضور نے نہایت ہی اطمینان سے سب کو مصافحہ کا موقع دیا اور شاید کسی ایک کو بھی اس نعمت سے محروم نہیں رکھا۔حضور پہلی موٹر کی اگلی سیٹ پر رونق افروز ہوئے اور دریافت فرمایا کہ سب دوست سوار ہو گئے ؟ عرض کیا گیا کہ حضور سب سوار ہو گئے۔تب موٹر کو روانگی کا حکم دیا۔مولوی نیک محمد خان صاحب کو ساتھ دوڑتے دیکھ کر سوار ہو جانے کا حکم دیا مگر جب دیکھا کہ وہ ساتھ ساتھ اور بعد میں پیچھے پیچھے دوڑتے تھے حکم دیا کہ وہ سوار ہو جائیں یا واپس لوٹ جائیں چنا نچہ مولوی نیک محمد خان صاحب ایک ساتھ جانے والے ٹمٹم میں نہر کے پل تک سوار ہو گئے جہاں حضور کا موٹر پانی لینے اور ساتھیوں کی دوسری موٹر کی انتظار میں ٹھہر گیا تھا۔دھنے (گاؤں کا نام) کی ریت میں موٹر لاری ضرور فیل ہو جاتی اگر مکرم با با محمد حسن صاحب کی سعی اور ان کے ماتحت ایک مضبوط نو جوانوں کا گروہ