سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 105 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 105

۱۰۵ يابها الابها سوال و جواب : بیان محمد علی بہائی - بجواب سوالات = میرا نام محمد علی ہے۔بہائی لقب ہے۔ہندی میں آپ لوگ بھائی بمعنے برادر بولتے ہیں۔ہر شخص جو بہائی کے ہاں پیدا ہوتا ہے بہائی نہیں ہوتا۔اس علاقہ کا نام بقعہ ہے اور گاؤں کا نام منشیا ہے اور اس قصر کا نام جس میں میں رہتا ہوں بہجہ ہے۔عکہ سے یہ مقام نصف گھنٹہ کی مسافت پر واقع ہے۔میں میلوں کا حساب نہیں جانتا کلو میٹر کا حساب جانتا ہوں۔تین کلو میٹر کا اندازہ ہو گا۔مہمانوں کی آمد کا کوئی قانون نہیں کبھی کم آتے ہیں کبھی زیادہ کبھی نہیں بھی آتے۔آج کوئی نہیں آیا۔( آپ لوگوں کے سوا ) کل بھی کوئی نہیں آیا۔پرسوں کا مجھے علم نہیں۔ماہوار اوسط کا بھی ہمارے پاس کوئی اندازہ نہیں۔مہمان خانہ عمومی بھی ہمارا کوئی نہیں۔" ہمیں منزل امن است ہر کہ آید اھلاً و سھلا دو قسم کے لوگ آتے ہیں بعض ایسے کہ زیارت کی اور چل دیئے اور اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں تا کہ ہمیں تکلیف نہ ہو۔خارجی مہمان گا ہے آتے ہیں جو کبھی آتے ہیں اسی مکان میں ٹھہرتے ہیں۔آپ لوگ بہائی ہیں یا کہ نہیں؟ بہائی معنے برادر در عقائد - شوقی آفندی میں نے سنا ہے کہ چلا گیا ہے اس کا مکان بند ہے۔اس میں صرف دو ادنی درجہ کے لوگ رہتے ہیں جن کو آپ لوگ مالی کہتے ہیں۔بہاء اللہ اسی جگہ رہتے تھے۔(اس میرے والے مکان میں ) ان کی وفات پر اس پر میرا ہی قبضہ ہے۔وصیت میرے حق میں تھی۔امریکہ میں وہ وصیت انگریزی زبان میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئی ہے۔شوقی آفندی ان کا نواسہ ہے اور میں بیٹا ہوں۔میرے بھائی عباس کی صرف چارلڑ کیاں ہیں ایک شوقی آفندی سے بیاہی ہے۔باقی تینوں اس کے پاس رہتی ہیں اس وجہ سے کل املاک پر اسی کا قبضہ ہو گیا ہے۔اس جگہ شوقی کے دو تین مرید ہیں۔حیفا میں اکثر ہیں۔مزار بہاء اللہ اسی جگہ ہے اور وہ بھی شوقی آفندی کے قبضہ میں ہے۔مزار آپ دیکھ سکتے ہیں۔شوقی کے معتقد خدام ( کمین ) لوگ ہیں و ہی جن کو آپ لوگ مالی کہتے ہیں۔حیفا میں بعض بڑے بڑے لوگ بھی ہیں مگر آپ نے اگر ان لوگوں کو دیکھا ہے تو سمجھ سکتے ہیں کہ کیسے بڑے ہیں۔میرے کہنے کو شاید کسی خاص مصلحت پر مبنی یا کسی