سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 104 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 104

۱۰۴ تار کا مضمون قضل جنرل نے حیفا سے ٹیلی فون کیا ہے۔لد کے سٹیشن ماسٹر سے پوچھا کہ دو آدمی رہ گئے ہیں ان کو پہنچانے کے لئے میں کیا کر سکتا ہوں۔یہاں سے جواب آ گیا کہ ایک بجے مال گاڑی حیفا سے چلے گی اس سے ان کو بھیج دیا جائے کل دس بجے وہ قطرہ پہنچیں گے۔روپیہ بھی انہوں نے مانگا ہے ٹکٹ بھی۔ٹکٹ گارڈ کے ذریعہ واپس بھیج دیئے گئے ایک گاڑی جاتی تھی اس میں۔اڑھائی پونڈ اور اخراجات کے واسطے بھی بھیجے گئے ہیں اور کہہ دیا گیا ہے کہ قطرہ پہنچتے ہی فوراً موٹر لے کر پورٹ سعید پہنچیں کیونکہ قطرہ سے کوئی گاڑی اس وقت نہیں چلتی۔خدا کرے جہاز لیٹ ہواور ہمارے دوست ہمیں مل جائیں ورنہ بہت ہی فکر کی بات ہے۔اللہ رحم کرے۔اس خبر نے سر دست بڑا کام کیا ہے۔دلوں کو گو نہ تسلی تو ہو گئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غم کا ایک پہاڑ سر سے اُتر گیا ہے اور گویا کہ کسی مرے ہوئے کی زندگی کی خبر مل گئی ہے۔سب کو بھوک لگ گئی ہے۔حضرت اقدس خود ہماری گاڑی میں تشریف لائے اور خوشی میں خیال نہ رہا۔فرمایا کہ سٹیشن والوں سے کہہ دو کہ ان کا ٹکٹ تھرڈ کلاس ہے ایسا نہ ہو کہ سٹیشن والے ان کو نقدی دینے کے واسطے سیکنڈ کلاس میں تلاش کرتے پھریں۔مولوی عبدالرحیم صاحب درد اور چوہدری علی محمد صاحب نے بھی کچھ نہ سمجھا سوچا اور جلدی میں اسٹیشن والوں کو بلوایا اور کہا کہ ان کے ٹکٹ تھرڈ کلاس۔۔۔اتنا کلمہ کہا ہی تھا کہ خیال آگیا کہ وہ تو مال گاڑی سے آ رہے ہیں تھرڈ اور سیکنڈ کی کیا تمیز ہے۔معا منہ پھیر لیا اور بات کو ٹال گئے۔گاڑی چل ہی رہی تھی پوری بات ظاہر نہ ہوئی۔حضرت اقدس بھی بہت ہنسے کہ خوشی کی گھبراہٹ میں کچھ سوجھ بوجھ ہی نہ رہی۔حافظ صاحب نے دو بڑے سمجھدار آدمیوں کو تبلیغ کی جو بہت ہی متاثر ہوئے۔حضرت مسیح موعودؓ کا کلام سن کر عش عش کرنے لگے اور قربان ہوتے تھے۔گوخودان کی اپنی زبان بھی بہت فصیح تھی مگر حضرت کے کلام نے ان پر غیر معمولی اثر کیا۔ایڈریس ان کے لئے گئے ہیں اور وہ ہمارا پتہ لے گئے ہیں۔بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ان میں سے ایک صاحب نابلس کے رہنے والے تھے اور بتاتے تھے تمام بستی مسلمانوں کی ہے اور دوسرے صاحب شام کے۔بہائی کے مکان میں ایک قطعہ لکھا ہوا تھا۔