سفر یورپ 1924ء — Page 103
۱۰۳ دوسرے گاؤں میں جو عکہ نہیں بلکہ بالکل الگ اور دوسرے مستقل نام سے مشہور ہے گئے۔رات کا اندھیرا تھا۔موٹر میں گرتی پڑتی ایک سنسان اور شہر خموشاں گاؤں کے ایک بڑے محل کے نیچے کھڑی ہوئیں جہاں سے شیخ صاحب عرفانی اور مصری کو حضور نے بھیجا کہ محمد علی یا شوقی آفندی میں سے کسی سے معلوم کریں اگر موقع ہو تو ان سے مل کر بعض حالات معلوم کئے جائیں۔شیخ صاحب ایک مقامی آدمی کو ساتھ لے گئے جو پہلے ان کو شوقی آفندی کے مکان پر لے گیا۔مگر شوقی آفندی کے گھر والوں نے دروازہ بھی نہ کھولا اور اندر کھڑے کھڑے خائف وترساں نظر آتے تھے جواب دے دیا کہ وہ یہاں نہیں ہے۔آخر محمد علی صاحب کے پاس گئے وہ ملا اور اس نے ملاقات پر آمادگی کا اظہار کیا۔حضور مع تمام خدام کے اس کے محل میں تشریف لے گئے اور حکم دیا کہ ہماری خصوصیت نہ ظاہر کی جاوے بلکہ اس طرح سے خلط ملط کیا جاوے کہ اس کو کسی خصوصیت کا پتہ نہ لگے سکے چنانچہ چند دوست حضور کے آگے اور چند پیچھے ہو گئے۔ایک بڑھا خادم دروازہ پر ملا فارسی اور عربی دونوں بولتا تھا۔راہبری کر کے مکان کے اندر لے گیا۔ایک کھلے دالان میں گدے دار پیچ بچھے ہوئے تھے۔لیمپ میز پر جل رہا تھا۔دو ایک الماریاں کمرے میں تھیں۔ہم سب لوگ ان پر جا کر بیٹھ گئے حضرت کی کوئی خصوصیت نہ کی جیسا کہ حکم تھا۔تھوڑی دیر میں ایک چھوٹے قد کا بڑھا آدمی ڈاڑھی کا صرف منہ پر نشان تھا ( کترائی ہوئی ایسی تھی کہ شاید جنگی میں بھی بال نہ آ سکتے ) سر کے بال بعض سندھیوں کی طرح لمبے اور پیچھے کو ڈالے ہوئے تھے۔رومی ٹوپی کے اوپر سفید مکمل دو گز لپیٹی ہوئی تھی اور ایک لمبا چوغہ پہنا ہوا تھا جس سے ٹخنے بھی ڈھکے ہوئے تھے۔معلوم نہیں نیچے پاجامہ تھا بھی یا کہ نہیں۔بالکل ایک معمولی آدمی آیا اس نے ہم سب کو سلام کیا۔مصافحہ کیا اور حال پوچھا۔حافظ صاحب نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے۔تب معلوم ہوا کہ محمد علی صاحب یہی ہیں جن کی اتنی دھاک سنی جاتی تھی۔ان کی شکل و شباہت دیکھتے ہی سارے معمے حل ہو گئے اور سارا تانا بانا نظر آ کر حقیقت آشکار ہوگئی۔خلاصہ گفتگو درج ذیل کرتا ہوں۔ان علاقوں میں عورتیں اکثر ( نصرانیہ ) بال کٹواتی ہیں اور جہلم اور بھیرہ وغیرہ کے مردوں کی طرح نظر آتی ہیں پٹے رکھے ہوئے ) لد کا اسٹیشن آ گیا ہے اور ایک تار ہمارے بچھڑے ہوئے دوستوں کا آیا ہے۔