سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 59 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 59

۵۹ نیچری خیالات کے آدمی ہیں۔ہیں تو معمر مگر باتیں کچھ اس طرح ہاتھ مار مار کر کرتے ہیں جو وقار و ثقاہت سے دور ہیں۔ان کے آتے ہی پہلی پارٹی اُٹھ کر چلی گئی صرف سید عبدالقادر جیلانی کی اولاد کے بزرگ صاحب بیٹھے رہے جو معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ اور صاحب رسوخ آدمی تھے کیونکہ جو بھی آتا تھا ان کو ادب اور احترام سے سلام کرتا تھا۔یہ صاحب اول سے آخر تک ہمارے خیالات کی بہت ہی تائید کرتے رہے اور سمجھدار آدمی تھے۔مولوی عبد القادر صاحب کی باتوں کا طرز جوشیلہ اور بحث کا رنگ لئے ہوئے تھا۔بہت سے سوالات کے جواب پا کر اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم لوگ عرب ہیں۔اہل زبان ہیں۔قرآن کو خوب سمجھتے ہیں ہم سے بڑھ کر کون قرآن کو سمجھے گا وغیرہ۔اس پر حضور نے اس کو کسی قد رسختی سے جواب دیا اور فر مایا کہ تم کون ہو۔تم شامی لوگ لغت قرآن کو بالکل نہیں جانتے۔تمہاری زبان قرآن کی زبان نہیں۔تم لوگ بھی اسی طرح سے لغت کے محتاج ہو جس طرح سے ہم ہیں۔قرآن خدا نے ہمیں سکھایا ہے اور سمجھایا ہے۔ہماری زبان با وجود یکہ ہم لوگ اردو میں گفتگو کرنے کا محاورہ رکھتے ہیں اور عربی میں بولنے کا ہمیں موقع نہیں ملتا تم سے زیادہ فصیح اور بلیغ ہے وغیرہ وغیرہ۔حضور نے بڑے جوش سے عربی میں ایسی فصیح گفتگو فرمائی کہ وہ سید صاحب بھی مولوی عبد القادر کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ واقع میں ان کی زبان ہم لوگوں سے زیادہ فصیح ہے۔( مولوی عبد القادر کی زبان بھی بہت اچھی اور قریبا فصیح تھی) اس پر مولوی عبد القادر نے کچھ نرمی اختیار کی اور پھر ادب سے گفتگو کرنے لگا۔حضرت صاحب نے ان کو بتایا کہ ہم لوگ تو قادیان میں اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی عربی زبان سکھاتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ عربی زبان ہماری ثانوی زبان ہو جائے چنانچہ اس غرض کے لئے اب حضور نے یہ ارادہ فرمالیا ہے کہ ان عربوں اور شامیوں اور مصریوں کے اس گھمنڈ کو توڑ دیا جائے کہ جب کبھی کوئی عرب، شامی، مصری قادیان جاوے تو ہمارے سکھے اور دھوبی تک ان سے پوچھا کریں کہ کیا تم کو عربی بولنی آتی ہے؟ اور فرمایا کہ ہمارے دوستوں کو چاہئیے عربی عورتوں سے شادی کریں اور عربی زبان کی ترویج کریں۔مولوی عبد القادر صاحب سے ختم نبوت اور نبوت حضرت مسیح موعود پر بھی گفتگو رہی اور